Muharram aa gaya ab tak Ali Akbar nahi aaye
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Ahsan Ali
محرم آگیا اب تک علی اکبر نہیں آئے
جو دیکھا چاند صغری نے کہا دل تھام کر ہائے
کوئی تو آئے دم سینے میں اٹکا ہے مرے بھائی
خبر آئے کہ تم آؤ کہ نیند آئے کہ موت آئے
تکے جاتی ہے رستہ ایک ٹک دہلیز پر بیٹھے
ہوا آئے کہ گرد آئے کہ ابر آئے کہ دھوپ آئے
طبیعت گھر میں گھبرائی تو اٹھ کر در پہ آ بیٹھی
کہاں جائے وہ اٹھ کر اب اگر دل اس کا گھبرائے
کوئی آتا ہے دروازہ کھلا رکھنے سے اے صغری
نہیں آتا کوئی دل کو ترے یہ کون سمجھائے
ہوا سے خاک اڑتے سب کے حجرے دیکھ کر ویراں
کرے کیا گر وہ دیواروں سے اپنا سر نہ ٹکرائے
جو پہنچا نامہ بر خط لے کے صغری کا تو کب پہنچا
پڑے تھے دل کو پکڑے خاک پر اکبر سناں کھائے
نوید اس کے لبوں پر بس یہی نوحہ تھا اے بھائی
کیا تھا وعدہ آنے کا نہ صبح آئے نہ شام آئے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.