Jal chuke khaime yateemon ke andhera reh gaya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Kazmi Brothers
جل چکے خیمے یتیموں کے اندھیرا رہ گیا
رات روتی رہ گئی روتا سویرا رہ گیا
جو باراتی بچ گئے وہ قید ہو کے چل دیئے
سارے دشت نینوا میں ایک دلہا رہ گیا
یادگاریں رہ گئیں دو مادر اصغر کے پاس
ایک کرتا خوں بھرا اور ایک جھولا رہ گیا
ام لیلی رو کے بولی شاہ دیں جلدی چلو
نوک پہ برچھی کی اکبر کا کلیجہ رہ گیا
سہرا اکبر کی لڑیاں خون میں تر ہو گئیں
ہائے صغری کا ہر اک ارماں ادھورا رہ گیا
سب ہی لاشوں کو اٹھا کر چل دیئے کوفے کے لوگ
تپتی ریتی پر محمد کا نواسہ رہ گیا
پھول زہرا کے چمن سے سب ہی توڑے جاچکے
جلتے خیموں میں بس اک بیمار تنہا رہ گیا
سر کھلے زینب چلیں خیموں سے یہ کہہ کر رضا
خنجروں کی بھیڑ میں بھائی اکیلا رہ گیا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.