Bas hussain bas
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Zargham Abbas
اصغر کو قتل گاہ میں لاے حسین جب
روتے ہوئے فرات نے دیکھے وہ سوکھے لب
اصغر کے ہونٹ سوکھے ہوے پیاس کے سبب
دیکھا تو خود پکار کے بولا جہاں ترب
اے جبرییل کہہ دو زرا بس حسین بس
اب امتحان ختم ہوا بس حسین بس
روز قلم پہ عرش پہ روتے تھے انبیاء
حلے میں تیر جوڑ رہا تھا جو حرملہ
اس امتحان صبر پہ خود موت نے کہا
بانو کے مہہ لقا کو بچا بس حسین بس
اب امتحان ختم ہوا۔۔۔
عیسیٰ جگر فگار تھے موسیٰ بھی آشک بار
یعقوب دے رہے تھے صدا روکے بار بار
کرب و بلا میں تھی یہی عیوب کی پکار
منہ کو کلیجہ آنے لگا بس حسین بس
اب امتحان ختم ہوا۔۔۔
کہتے تھے روح اپنے سفینے کو چھوڑ کر
گردش میں نہ آے کہیں پھر سے بحروبر
سر کو جھکائے کہتے تھے یوں نسبہ چشم تر
منظر ہے درد ناک بڑا بس حسین بس
اب امتحان ختم ہوا۔۔۔
سلمان اپنے تخت ہوائی پہ روتے تھے
یوسف یہ ظلم دیکھ کے بے ہوش ہوتے تھے
داؤد کشت کلب میں اشکوں کو بوتے تھے
آدم کی آ رہی تھی صدا بس حسین بس
اب امتحان ختم ہوا۔۔۔
تڑپا جو تیر کھاکے وہ بانو کا نونہال
اصغر کے خوں سے چہرۂ سرور ہوا جو لال
کہنے لگا رسول سے تب رب ذوالجلال
کہیےء کہ زخت حد سے بڑا بس حسین بس
اب امتحان ختم ہوا۔۔۔
زینب جو اپنے بچوں کے مرنے پہ چپ رہی
جو واقف مزاج شہ تشنہ کام تھی
اس وقت اسکے صبر کی دیوار گر گیء
بولی گرا کے سر سے ردا بس حسین بس
اب امتحان ختم ہوا۔۔۔
ام رباب جھولے سے لپٹی یہ کہتی تھی
یا رب مجھے عزیز ہے اصغر کی زندگی
کچھ بھی تیری کنیز نے مانگا نہیں کبھی
دے حکم شہ کو میرے خدا بس حسین بس
اب امتحان ختم ہوا۔۔۔
آخر ریحان اعظمی دی رب نے یہ صدا
ہے امتحان صبر کی شبیر انتہا
جبریل بولے اب ہے یہی مرضیء خدا
کربوبلا سے عرش پہ آ بس حسین بس
اب امتحان ختم ہوا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.