Ghame karbobala
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Hasan Abbas Ahsan
غمِ کربوبلا اللّٰہ و اکبر
یہ ماتم کی صدا اللّٰہ اکبر
یہاں خود سر نگوں عرش علا ہے
یہی تو سجد گاہ انبیاء ہے
یہاں کی خاک بھی خاک شفا ہے
زمین کربلا اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
بہاتے ہیں غمِ شہ میں لہو ہم
سر محشر رہیں گے سرخ رو ہم
یونہی پھیلاےنگے اب چار سوں ہم
یہ ماتم کی صدا اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
وہ سقاے حرم ابنِ علی ہے
الم کے جس کے ہر سوں روشنی ہے
فضاؤں میں مسلسل کہہ رہی ہے
پھریرے کی ہوا اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
یہ وہ غم ہے کہ جس میں زندگی ہے
اسی غم سے نظر میں روشنی ہے
یہی غم محترم ہے بندگی ہے
عزاے کربلا اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
کہیں ملتی نہیں ایسی بلندی
جہاں مجلس بپا ہوتی ہے شہ کی
وہاں آتی ہے زہرا کی سواری
مصلہ اشک کا اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
نماز و روزہ و حج سب اہم ہے
یہ احکام خدا سب محترم ہے
مصلوں پر جبینیں سب کی خم ہے
مگر فرش عزا اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
خدا کا گھر تو کعبہ بالیقین ہے
جو یاں خم ہو وہی روشن جبیں ہے
بڑی پاکیزہ مکہ کے زمیں ہے
مگر خاک شفا اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
بس اک شب میں ہوا تبدیل منظر
سحر عاشور کی حر کا مقدر
چلا باطل سے آیا راہ حق پر
جب اکبر نے کہا اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
وفا حق میں شعار انبیاء ہے
مگر کیا مرتبہ عباس کا ہے
فقط اس کو زمانہ کہہ رہا ہے
وفاؤں کا خدا اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
ہوے جب قتل زینب کے دلارے
وہ ماں کا صبر دنیا کیسے بھولے
جونہی مقتل سے شہ نے لاے لاشے
وہ سجدہ شکر کا اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
ہے رن میں منتشر قاسم کا لاشہ
اٹھاے لاش کیسے جان زہرا
مگر اب کیا کرے تھامے کلیجہ
بچھاتے ہیں عبا اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
شہ دیں پر ہے کیسا وقت آیا
کہ خاک اور خون میں غلطاں ہے بیٹا
تڑپتا ہے جگر پر کھا کے نیزہ
شبیہ مصطفیٰ اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
وہ جھولے سے تیرا مقتل میں آنا
گلوے خشک پر وہ تیر کھانا
علی اصغر نہ بھولے گا زمانہ
تبسم پیاس کا اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
کٹے عباس کے جس وقت شانے
تو گزری اس پہ کیا اللّٰہ جانے
تڑپ محسوس کرلی فاطمہ نے
نگاہ مامتا اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
بدن سے کٹ کے سر رکھتے ہیں قدرت
سر نیزہ سے قرآں کی تلاوت
ہے زندہ جان زہرا کی بدولت
اذانوں کی صدا اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
رضا خالق کی بندہ چاہتا ہے
اسی میں برتری ہے جانتا ہے
مگر شہ سے خدا خود پوچھتا ہے
بتا تیری رضا اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
کسی کو دولت اولاد دے دی
کسی کو قوت پرواز بخشی
نہ تھی قسمت میں وہ نعمت عطا کی
کرم شبیر کا اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
چلا جب قافلہ کربوبلا سے
سجے تھے راستے جور و جفا سے
نہ ہوتا صبر ممکن انبیاء سے
مگر زین العبا اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
جھلستی دھوپ اور اکبر کا لاشہ
یہ منظر دیکھتی تھی ام لیلیٰ
سناں کی نوک پر بیٹے کا سر تھا
وہ ماں کا حوصلہ اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
جسے سورج کی کرنوں نے نہ دیکھا
فلک نے بھی نہ دیکھا جس کا سایہ
رہا آواز پر بھی جس کا پردہ
وہی ہے بے ردا اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
گلے میں طوق ہے زین العباء کے
ہے چھالے پاؤں راہوں میں کانٹے
وہ زنجیریں وہ لنگر تازیانے
سفر وہ دھوپ کا اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
غمِ شبیر کی دولت ملی ہے
عزاداروں بڑی نعمت ملی ہے
کس آسانی سے یہ جنت ملی ہے
دعاے فاطمہ اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
یتیمی کمسنی تشنہ دہانی
طمانچے تازیانے کان زخمی
سکینہ بی بی کی تھی زندگانی
مسلسل مرثیہ اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
جو اشکوں کا لہو کا سلسلہ ہے
عزاداری کا یہ جو قافلہ ہے
سلیقہ یہ جو مجلس کا ملا ہے
ہے زینب کی عطا اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
عزا کے اشک ہے آنکھوں کی زینت
کریں گے ہم رشید اس کی حفاظت
ہے غم پیاسوں کا اس دل کی عبادت
مقدر کی عطا اللّٰہ اکبر
غمِ کربوبلا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.