Aaj ki raat Sakina pe bohat bhari hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mir Hasan Mir
بابا آجاؤ بابا آجاؤ یہ بیٹی جو تمہیں پیاری ہے
آج کی رات سکینہ پہ بہت بھاری ہے
آبلے دکھتے ہیں ہوتی ہے چبھن خاروں کی
بڑھتی جاتی ہے اذیت میرے رخساروں کی
یہی حالت باخدا ہوتی ہے بیماروں کی
ایسا لگتا ہے کے مرنے کی یہ تیاری ہے
اپنی جانب جو بلاتی ہے یہ زنداں کی زمیں
یہ کہیں آپ سے ملنے کا اشارہ تو نہیں
جلد آجائیں نہ ہو جائے بس اب دیر کہیں
آپ کے سینے پہ سونے کی میری باری ہے
اتنا صابر ہے میرا بھائی کے ہر دکھ سہہ کے
خون کے آنسو بہر حال ٹھہر جاتے تھے
ہاں مگر مانگا گیا جب سے کنیزی میں مجھے
بھائی سجاد کی آنکھوں سے لہو جاری ہے
شمر کے دروں نے کردی ہے کمر میری نڈھال
میرے بالوں کی سفیدی سے عیاں ہے میرا حال
اب مجھے دیکھ کے کرتے ہیں سبھی لوگ سوال
زرد چہرہ ہے کیا اس بچی کو بیماری ہے
پیار ہے بیٹی سے کتنا یہ بتانا ہو گا
ساتھ میں سارے شہیدوں کو بھی لانا ہو گا
پہلا پرسہ میرا لینے تمہیں آنا ہو گا
آج زنداں میں سکینہ کی عزاداری ہے
سوچتی ہوں کے کفن کیسے میرا لائیں گے
کس طرح لاش کو بھیا میری دفنائیں گے
قیدی ہاتھوں سے مجھے کیسے اٹھا پائیں گے
کیسی یہ مالک و مختار کی لاچاری ہے
خاک پر تھک کے جو بیٹھی تو طمانچے کھائے
ہائے عباس پکاری تو طمانچے کھائے
آپ کے نام پہ روئی تو طمانچے کھائے
میرے رخساروں پہ تفصیل لکھی ساری ہے
باپ کو بیٹی صدا دے کے یہ بولی اکبر
کر دیئے بازو نثار اپنے چچا نے مجھ پر
اٹھے گا ان کا علم مشک سکینہ لے کر
وہ وفا ان کی تھی یہ میری وفاداری ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.