Ro ke kehti thi Sakina Abid beemar se
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Asghar Khan
رو کے کہتی تھی سکینہ عابد بیمار سے
کیا میری میت بھی گزرے گی اسی بازار سے
میں نے بابا کے گلے پہ رکھا تھا اپنا گلا
دے کے اپنی ہی قسم بابا نے رخصت کر دیا
ورنہ میں بھی قتل ہو جاتی اسی تلوار سے
آخری خواہش سمجھ کر مجھ کو سر بابا کا دیں
ان سے کہیے جتنا جی چاہے طمانچے مار لیں
جس قدر چاہیں بہا لیں خوں میرے رخسار سے
بات جب سارے سفیروں میں کنیزی کی ہوئی
میں تو بھیا شرم سے ہی مرگئی تھی اس گھڑی
میں کہاں زندہ پلٹ کر آئی تھی دربار سے
بعد میرے گر گوہر واپس بھی مل جائیں تمہیں
قبر سرکار دو عالم پر چڑھا دینا انہیں
روز محشر لوں گی میں اب احمد مختار سے
سوچتے رہتے تھے اکبر عابد مضطر یہی
کس طرح آنسو اٹھاؤں خاک سے زندان کی
اور لہو کیسے جدا ہو گا در و دیوار سے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.