Main Zainab Hoon
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by Mesum Abbas
لوگو میں علی کی بیٹی ہوں
کونین کی میں شہزادی ہوں
میں زینب ہوں، میں زینب ہوں
بے چادر ہوں اور قیدی ہوں
بازار میں رو کر کہتی ہوں
میں زینب ہوں، میں زینب ہوں
کس شان سے نکلی تھی گھر سے
اس غم نے رلایا تھا مجھ کو
بازو سے پکڑ کر غازی نے
محمل میں بٹھایا تھا مجھ کو
وہ منظر سوچ کے روتی ہوں
حیران میں خود پر ہوتی ہوں
جب قافلہ اس کے گھر پہنچا
شیریں نے مجھے پہچانا نہیں
قدموں سے لپٹ کر رونے لگی
جب میں نے کہا کیوں جانا نہیں
پردیس میں لٹ کر آئی ہوں
پہچان میں آقا زادی ہوں
جس وقت سر مسلم دیکھا
سجاد کے لب پر تھا نوحہ
پہلے تو سلامی دی میں نے
پھر روتے ہوئے مسلم سے کہا
قسمت کی رسن میں جکڑی ہوں
آنکھوں سے سلامی دیتی ہوں
ہمراہ کنیزوں کے اک دن
زندان ستم میں ہند آئی
زینب سے کہا جب کون ہے تو
زینب یہ سخن لب پر لائی
میں رنج و الم کی ماری ہوں
اور شیر خدا کی بیٹی ہوں
زنداں سے رہا ہو کر قیدی
جب کرب و بلا میں آئے تھے
بھائی کی لحد پر جاتے ہی
یوں بین کیئے تھے زینب نے
کچھ نیل رسن کے لائی ہوں
تیرا چہلم کرنے آئی ہوں
سجاد سے کہتی تھی رو کر
دربار میں کس طرح جاؤں
میں شرم و حیا کی شہزادی
اے کاش زمیں میں گڑ جاؤں
مجرم کی طرح سے چلتی ہوں
خالق سے دہائی دیتی ہوں
اٹھارہ برادر تھے جس کے
وہ بی بی ردا کو روتی ہے
وہ زخم دیئے ہیں امت نے
مرہم کو دوا کو روتی ہے
ہر کلمہ گو سے کہتی ہوں
کیوں آج ردا کو ترستی ہوں
پہنچے جو مدینے اہل حرم
تھا میثم و مظہر حشر بپا
صغری سے کہا شہزادی نے
چہرے پہ مرے کر غور ذرا
زنداں سے چھٹ کر آئی ہوں
بالوں میں سفیدی لائی ہوں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.