Ae Chand Karbala Ke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Chand Raat recited by Ustad Sibt-e-Jafar, Mir Hasan Mir, Wajhi Hasan Zaidi
اے چاند کربلا کے تو نے تو دیکھے ہوں گے
اترے تھے اس زمیں پر عرش بریں کے تارے
اے چاند جلوہ گر ہے ہاشم کا چاند یاں پر
خیرات روشنی کی لے لیجیو یہاں سے
اے چاند اس زمیں پر رکھیو ہمیشہ ٹھنڈک
سوتے جو ہیں یہاں پر زہرا کے ہیں یہ پیارے
تسنیم و سلسبیل و کوثر کے ہیں یہ مالک
مارے گئے جو پیاسے اس نہر کے کنارے
حر اور حبیب جیسے جانباز اور احبا
مارے گئے یہیں پر انصار شاہ دیں کے
مارے گئے یہیں پر بے دردی و ستم سے
مسلم کے دونوں پیارے زینب کے دونوں بیٹے
پامال ہو رہی تھی قاسم کی لاش رن میں
عباس اور سرور چنتے تھے ان کے ٹکڑے
بازو کٹے یہیں پر عباس باوفا کے
اذن وغا نہ پایا پانی بھی لا نہ پائے
اس سر زمیں پہ گزرا سرور پہ یہ بھی صدمہ
سینے پہ کھائی برچھی ہمشکل مصطفی نے
پانی پلانے لائے اک مہ لقا کو سرور
کیا ذبح حرملہ نے تیر ستم لگا کے
گردن چھدی پسر کی بازو چھدا پدر کا
دونوں تڑپ تڑپ کر پیاسے جہاں سے گزرے
اس بن میں ایک بچی بابا کو ڈھونڈتی تھی
بکھرے ہوئے پڑے تھے جب سر بریدہ لاشے
پھر یہ بھی تو نے دیکھا وہ غم رسیدہ بچی
سینے پہ سو رہی تھی بے سر پدر سے لپٹے
بازو بندھے یہیں پر پہلے پہل حرم کے
اس سر زمیں سے نکلے سجاد سر جھکائے
شہزادہ جناں ہی مالک ہے کربلا کا
کس کی مجال آئے جب تک نہ وہ بلائے
پہنچا ہے کربلا میں ناچیز سبط جعفر
اے کاش پھر مقدر ہم کو یہ دن دکھائے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.