Niklay jo khema gah se Zainab ke meh laqa
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Haz. Aun O Mohd (a.s) recited by Wajeeh Hasan Zaidi
نکلے جو خیمہ گاہ سے زینب کے مہ لقا
آئے قدم بڑھائے با انداز لافتی
دیکھا جو بھانجوں میں قیامت کا ولولہ
میداں کی سمت دیکھ کے عباس نے کہا
اب دیر مت کرو کے چڑھائی کی دیر ہے
فصلیں کھڑی ہوئی ہیں کٹائی کی دیر ہے
تلوار یوں چلاؤ کے لشکر دہائی دے
داد وغا نجف سے علی کی کلائی دے
جھنکار تیغ حق کی فلک تک سنائی دے
بھاگیں جدھر یہ موت کا پہرہ دکھائی دے
بزدل کہیں کے غازی و جرار آگئے
کیا ہر طرف سے حیدر کرار آگئے
میداں ادھر ہو صاف جدھر لڑ رہے ہو تم
ہو جائے دشمنوں کو خبر لڑ رہے ہو تم
اس بھیڑ میں ادھر کے ادھر لڑ رہے ہو تم
یہ طے نہ ہو سکے کے کدھر لڑ رہے ہو تم
وہ ضربتوں میں زور ہو جبریل کانپ جائے
رفتار دیکھ کر ملک الموت ہانپ جائے
قہر اللہ بن کے کرو دشمنوں پہ وار
وہ وار جس سے ایک ہوں دو اور دو سے چار
سر ان کے یوں اڑاؤ کے جیسے اڑے غبار
لڑنے پہ آئیں شیر تو کیا ایک کیا ہزار
میری طرح چڑھا کے ذرا آستین کو
لشکر سمیت آج الٹ دو زمین کو
شامی محل میں آنے کے بیٹھے جو بے محل
دانے سمجھ کے چگنے لگا طائر اجل
کیسے لکھے بلال و وجیہہ شہہ ازل
کرسی نشین خاک پہ گرتے تھے منہ کے بل
لفظوں کے گرز ظلم کے سر پھوڑنے لگے
لگتا ہے پھر بتوں کو علی توڑنے لگے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.