Haye Zainab ki yateemi ka zamana aa gaya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Umair Kazmi
ہائے زینب کی یتیمی کا زمانہ آگیا
خون میں ڈوبا ہوا مسجد سے بابا آگیا
ہچکیاں لے کر کیا زہرا نے خود سے یہ کلام
اب میرے والی کو کوئی بھی نہیں کرتا سلام
حد ہے میری زندگی میں ہی یہ موقع آگیا
غربت حیدر کی تب سے ابتداء تھی ہو گئی
سامنے ان کے جو بنت مصطفی زخمی ہوئی
جب در زہرا جلانے کو تھا مجمع آگیا
زخم کھایا تھا علی نے پر نہ تھا ضربت کا دکھ
یاد کر کر کے وہ روتے تھے فقط عترت کا دکھ
بے ردا زینب کا چہرا سوچ میں تھا آگیا
جانے شبر کے مصائب کیوں الگ سے ہو گئے
باپ کو رسی میں دیکھا ماں کو جلتے در تلے
تب سے مولا مجتبی کو صبر کرنا آگیا
بولے حیدر کچھ نہیں بولو میری تصویر کو
ہاتھ غازی کا لیا پھر دے دیا شبیر کو
یوں لگا تب سے ہی ہاتھوں کو کٹانا آگیا
مادر عباس کا تھا کپکپی میں یوں بدن
کیوں میرے غازی کے ہاتھوں کو نہیں لیتے حسن
میں تو سمجھی تھی پسر کو حق نبھانا آگیا
صبر آتا ہے رضا غازی کا کوفے میں نظر
باپ کے قاتل کے آگے اپنا غصہ روک کر
خود سے بولے زندگی میں کیوں یہ لمحہ آگیا
حضرت شبیر بابا کو کفن جب دے چکے
غسل دیتے وقت عابد بھی وہیں پر تھے کھڑے
سوچ میں سجاد کی بابا کا لاشہ آگیا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.