Ghar Mein Allah Ke Ali Par Yun
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Syed Ahsan Abbas Baqari
گھر میں اللہ کے علی پر یوں ظلم امت نے ہائے ڈھایا ہے
تھا عمامہ علی کا خون میں تر سر کو سجدے سے جب اٹھایا ہے
پیٹ کر جبرائیل نے سر کو دی صدائیں یہ رو کے سدرہ سے
ہے غضب خارجیوں نے مسجد میں دین کے کعبے کو گرایا ہے
جس علی کو نبی نے کعبے میں اپنے کاندھوں پہ خود اٹھایا ہے
ہائے افسوس اس کا امت نے خون مسجد میں ہی بہایا ہے
خون میں تر عمامہ دیکھا تو بیٹیوں کی ردائیں یاد آئیں
دل پہ حیدر کے زخم کوفے میں شام والوں نے یوں لگایا ہے
قتل زہرا کیا مدینے میں تیغ علی پر چلائی کوفے میں
ہائے سادات کو سقیفے نے جابجا اس قدر ستایا ہے
تیغ سر پر لگی جو مولا کو خوں بکھرنے لگا مصلے پر
یوں بکھر کر لہو نے حیدر کو منظر کربلا دکھایا ہے
ہائے امت یہ پیاسا مارے گی اس کے بچوں کو دشت میں جس نے
اپنے قاتل کو اپنے حصے کا جام شربت بھی خود پلایا ہے
بغض خم سے تھا یا سقیفے کا اور بدر و احد کے بدلے میں
ضرب سر پر علی نے کھائی ہے فاطمہ نے طمانچہ کھایا ہے
ابتداء جو ہوئی ہے کوفے میں انتہا اس کی کربلا میں ہے
رو کے زینب کو اپنے سینے سے لگا کے مولا نے یہ بتایا ہے
زخمی پہلو علی کو زہرا کا یاد تب احسن و اسد آیا
دے کے حسنین نے سہارا جب زخمی بابا کو خود اٹھایا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.