Is baat se mehsoos karo kya hai Sakina
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mir Hasan Mir
اس بات سے محسوس کرو کیا ہے سکینہ
عباس کے ہونٹوں کا قصیدہ ہے سکینہ
جو حرف ثنا ذہن پر اترا ہے سکینہ
عباس علمدار نے بخشا ہے سکینہ
آئینہ زہرا میں جو دیکھا ترا بچپن
ہر عکس پکارا کہ تو زہرا ہے سکینہ
جو پیاس کے پرچم کی علمدار ہے اب تک
عباس کی وہ پیاری سکینہ ہے سکینہ
رد ہو نہیں سکتی وہ دعا شہر وفا میں
جس حرف دعا کو تو وسیلہ ہے سکینہ
عباس کی نظروں سے کوئی پڑھ کے تو دیکھے
احساس کی اک نہج بلاغہ ہے سکینہ
جو مشک میں بھر سکتا ہے دنیا کے سمندر
کونین میں بس وہ ترا سقا ہے سکینہ
ہر عمر کے حیدر نے جھلایا ترا جھولا
یہ اوج فقط تو نے ہی پایا ہے سکینہ
دریاؤں کے لب نوک قلم چوم رہے ہیں
میں نے ابھی لکھا نہیں سوچا ہے سکینہ
الفاظ کے لشکر مری چوکھٹ پہ کھڑے ہیں
یہ آپ کی مدحت کا نتیجہ ہے سکینہ
پیشانی زنداں پہ یہ تحریر ہے اب تک
ظالم تو فنا ہو گیا زندہ ہے سکینہ
ہے صبر ردیف اور عطش قافیہ جس کا
ریحان کے نوحوں کا وہ مصرعہ ہے سکینہ
ریحان کی صورت وہ شرف راز رہے گا
جس نے تیری دہلیز کو چوما ہے سکینہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.