Aye Shaam Ke Musafir Manzil Teri Kahan Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Mir Hasan Mir
اے شام کے مسافر منزل تیری کہاں ہے
زنجیر ہے بدن پر زخموں سے خوں رواں ہے
بے پردہ آج زینب دربار جا رہی ہے
سجاد پر خدایا یہ کیسا امتحاں ہے
اے شہر بے وفا یا یہ انقلاب کیسا
کوفے کی شہزادی کوفے میں بے اماں ہے
صد حیف کہ مسلماں بیٹھے ہیں کرسیوں پر
جکڑا ہوا رسن میں بیمار سارواں ہے
ہم گر گئے زمیں پر اماں بچاؤ ہم کو
اونٹوں سے گرنے والے بچوں کی یہ فغاں ہے
میں شام کی مسافت طے کر کے آ گیا ہوں
روضے پہ مصطفی کے سجاد کا بیاں ہے
زینب کی بے ردائی پہ چپ ہے کیوں زمانہ
اس وقت کلمہ گو کی انسانیت کہاں ہے
چلتا رہے گا یوں ہی یہ قافلہ عزا کا
ہرگز نہ چھپ سکے گی یہ رن کی داستاں ہے
ہے یہ دعا محب کی اس پر کرم ہو مالک
اولاد مصطفی کا یہ میر نوحہ خواں ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.