Dil karbala mein
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Raza Abbas Zaidi
کیا پوچھتے ہو اہلِ عزا کیا کروں بیاں
میں زایر حسین ہوں اور ایک نوحہ خواں
آیا ہوں کربلا سے بصد رنج اور فغاں
کوئی کرے سوال آنسوں ہے کیوں رواں
دل کربلا میں رہ گیا میں آگیا یہاں
یہ دل بنا حسین کے پائے سکوں کہاں
نام حسین کافی تھا رونے کے واسطے
اک اک قدم رولاتی ہے یوں کربلا مجھے
پہلے میں خیمہ گاہ حسینی پہ رک گیا
یاد آگیا کے ایک بہن یاں تھی نوحہ خواں
غربت میں قتل ہوگیا مظلوم بہ وطن
میں بھائی بھائی کہتی تھی لاشہ بہن بہن
دل کربلا میں۔۔۔
نکلا میں اس کے بعد خیام حسین سے
آثار ٹھوڑی دور تھے قطع یدین کے
دیکھا مقام بازو بریدہ میں رو دیا
کیسے پکارا ہوگا وفاوں کا آسماں
میرے ہاتھ نہیں ہیں میرے ہاتھ نہیں ہیں
دل کربلا میں۔۔۔
نزدیک تھا مقام علی اکبر جواں
گریہ کناں تھی سہرا لیے چند بیبییاں
آواز اک فضاوں میں دل کو ہلاتی تھی
بابا ملیں تو کہنا کے کہتا تھا اک جواں
ہے جان اب لبوں پر برچھی نہ کھیچنا
بولے پدر سے اکبر برچھی نہ کھیچنا
دل کربلا میں۔۔۔
گہوارا ایک چھوٹی عمارت میں تھا رکھا
گہوارے میں شلوکا تھا اک خون میں بھرا
گہوارا چوم چوم کے دے دے کے لوریاں
لگتا تھا کہ رہی ہوں حسین و حسن کی ماں
ماں قربان اصغر جان آجاو
دل کربلا میں۔۔۔
ہاں وہ مقام جو کے زمیں سے بلند تھا
بیٹی علی و زھرا کی پہنچی بصد بکا
دیکھی جو چلتی گردن شبیر پر چھری
زینب پکاری بابا غضب ہوگیا یہاں
زینب لپٹ کے باپ سے دیتی رہی صدا
ستر قدم کا فاصلہ بھائی بہن میں تھا
دل کربلا میں۔۔۔
جنت نشاں ہے آج بھی روضہ حسین کا
مقصود کائنات ہے بابا حسین کا
اتنے امیر باپ کے بیٹے نے کیوں کہا
فریاد کر رہی ہو جو سوکھی ہوئی زباں
اماں غریب ہوں میں اماں غریب ہوں میں
دل کربلا میں۔۔۔
منظر بڑا عجیب تھا ریحان اور رضا
مقتل کی سمت جابے لگے شاہ کربلا
اور نیند سے سکینہ کے چہرے پہ ورم تھا
گودی میں لے کے شہ نے کہا اب نہ ہو فغاں
میری سکینہ کو نیند آرہی ہے
دل کربلا میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.