Umm ul Baneen deen e khuda ka nisaab hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Mir Sajjad Mir
ام البنین دین خدا کا نصاب ہے
اس کی فضیلتوں کا بھلا کب حساب ہے
کیسے احاطہ ہو کے سمندر کا آب ہے
یعنی ہر اک سوال کا بس یہ جواب ہے
ہے اس کی بارگاہ میں مدحت گزار چاند
اس نے علی کے گھر کو لگائے ہیں چار چاند
گھر میں علی کے آئیں تو پہلا کیا یہ کام
چوکھٹ پکڑ کے بنت نبی کو کیا سلام
بولی کنیز آئی ہے اس گھر کے کرنے کام
دیں اذن آپ آپکے گھر میں کروں قیام
پڑھتی ہوئی درود وہ زہرا کی یاد میں
باب حوائج آگئی صحن مراد میں
زینب کے کام کرنا عبادت سمجھ لیا
کچے مکاں کو دیں کی عمارت سمجھ لیا
ہر گام تنگ دستی کو نعمت سمجھ لیا
مولا کی بات بات کو آیت سمجھ لیا
سائے کو ان کے اپنی اماں بولنے لگے
زہرا کے لاڈلے انہیں ماں بولنے لگے
اک دن وہ دن بھی آیا کہ تھا جس کا انتظار
گھر میں علی کے آ گئے عباس نامدار
شہزادی شکر کرتی تھیں خالق کا بار بار
خود عرش پوچھتا تھا کے ہے کون ذی وقار
ام البنین ہے کون سی دولت لیے ہوئے
پھیلائے ہاتھ مولا علی ہیں کھڑے ہوئے
منصب جہاں میں سب سے انوکھا ملا انہیں
زہرا کی خواہشوں کا خلاصہ ملا انہیں
حد ہو گئی وفاؤں کا کعبہ ملا انہیں
بیٹا نہیں نبی کا نواسہ ملا انہیں
صورت میں اپنے بیٹے کی رب کا ولی دیا
یہ بی بی وہ ہے جس نے علی کو علی دیا
لے کر پسر کو گود میں مولا کے پھر کہا
شادی سے پہلے میں نے یہ اک خواب دیکھا تھا
آیا تھا میری گود میں وہ چاند عرش کا
اب جا کے اس کنیز پہ یہ راز ہے کھلا
وہ چاند کب تھا آپ کا عکاس آیا تھا
مادر سے ملنے خواب میں عباس آیا تھا
زہرا کو ان کے بیٹوں کا حبدار دے دیا
حیدر کو پھر سے جعفر طیار دے دیا
شبر کو ایک اور وفادار دے دیا
شبیر کو تو فوج کا سالار دے دیا
یاد آئے گا رسول کے نائب کا بچپنا
دیکھیں گے پنجتن ابوطالب کا بچپنا
غازی کو اس نے وعدہ نبھانا سکھا دیا
سجاد اس نے دیں کو بچانا سکھا دیا
بچپن میں ہی علم کو اٹھانا سکھا دیا
نظروں سے دشمنوں کو ڈرانا سکھا دیا
بتیس سال تک وہ جیا اس جلال سے
کوئی نظر ملا نہ سکا اس کے لال سے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.