Sakina Aur Zahra Ki Museebat Ek Jaisi Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mir Hasan Mir
سکینہ اور زہرا کی مصیبت ایک جیسی ہے
ہیں ٹوٹی پسلیاں دونوں کی حالت ایک جیسی ہے
وہاں قنفذ کے ہاتھوں نے کوئی تحریر لکھی ہے
یہاں تحریر ظالم شمر کے ہاتھوں کی ملتی ہے
لکھی دونوں کے چہروں پر عبارت ایک جیسی ہے
وہاں بنت رسول اللہ کا پہلو شکستہ ہے
یہاں بچی کے کانوں سے ابھی بھی خون رستا ہے
لحد میں جا کے بھی دونوں کی غربت ایک جیسی ہے
سر دربار دادی اور پوتی کی ہوئی پیشی
وہ اٹھارہ برس کی اور یہ ہے چار برسوں کی
نہ جانے پھر بھی کیوں بالوں کی رنگت ایک جیسی ہے
گئیں اک ایک در پر فاطمہ شہر مدینہ میں
سکینہ در بدر پھرتی رہی ہے شام و کوفہ میں
ولایت کے لیے ان کی مسافت ایک جیسی ہے
ستمگر کے طمانچے کی نہ جانے کیسی ضربت ہے
سہارے سے چلیں دیوار کے دونوں قیامت ہے
نظر کچھ بھی نہیں آتا بصارت ایک جیسی ہے
اسے کہتے تھے یثرب والے روئے شہر سے باہر
طمانچے مارتے تھے شام والے اس کو رونے پر
دلوں میں باپ کو رونے کی حسرت ایک جیسی ہے
مٹا دینا نشان قبر میت قبر میں رکھ کر
ولایت کا کوئی منکر نہیں آئے جنازے پر
امام وقت سے ان کی وصیت ایک جیسی ہے
گلے سے مرتضی کے رسیاں زہرا چھڑاتی ہیں
سکینہ طوق پے سجاد کے پانی بہاتی ہیں
امامت کے لیے دونوں کی محنت ایک جیسی ہے
قیامت بن کے آیا تھا تکلم وقت مغرب کا
ادھر بالی سکینہ کا ادھر زہرا کا دم نکلا
جہاں سے ان کے جانے کی بھی ساعت ایک جیسی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.