Gham Sunane Aayi Hoon
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Syed Umair Kazmi
حشر میں زہرا پکاری غم سنانے آئی ہوں
پسلیاں ٹوٹی تھیں کیسے یہ بتانے آئی ہوں
جب گئی دربار تحریر محمد پاس تھی
کر چکے ٹکڑے مسلماں تب سے دل میں آس تھی
کیا سند پر تھا لکھا سب کچھ بتانے آئی ہوں
کس طرح مجھ کو مسلمانوں نے تھا زخمی کیا
مار کے مجھ کو طمانچہ بدلا حیدر سے لیا
نیل ہے تازہ ابھی تک یہ دکھانے آئی ہوں
ہے یہی فطرت کے بیٹا ماں کے پہلو میں رہے
کیسے بتلاؤں کے جب سب در کے اوپر سے گئے
جو بھی کچھ حسنین نے دیکھا بتانے آئی ہوں
میرے محسن کے لیے ویران دنیا ہوگئی
جان اپنی اپنے بابا کی ولایت پر جو دی
ہاں اسی بچے کو اس کا حق دلانے آئی ہوں
پوچھتا تھا جب کوئی حیدر سے مشکل کب پڑی
رو کے کہتے تھے میرے جب سامنے زوجہ گری
غم اسی مشکل کشاء کے میں بڑھانے آئی ہوں
میرا مولا حق پے تھا پر حق ملا نہ کیوں اسے
ہاتھ پہلو پر رکھے گھر گھر گئی میں کس لیے
تھی ولایت سب پے واجب یہ بتانے آئی ہوں
شام کی راہوں میں بھی اور قید میں نہ سوسکی
شمر کے ڈر سے ابھی تک ہے وہ بچی جاگتی
میں سکینہ کو سکوں سے اب سلانے آئی ہوں
لائی ہوں میں خوں بھرا کرتا میرے شبیر کا
اور جس سے چھد گیا ننھا گلا بے شیر کا
تین پھل کا تیر محشر میں دکھانے آئی ہوں
اپنے زخمی ہاتھ سے جس شیر کو مانگا سدا
کٹ گئے شانے بھی اس کے آنکھ میں بھی تیر تھا
دو علم ہاتھوں کے اس کے میں سجانے آئی ہوں
میری تربت پر عصا لے کے چلی آتی تھی وہ
بھائی بھائی کہہ کے ہر دن ہائے غش کھاتی تھی وہ
ہاں اسی صغری کو اکبر سے ملانے آئی ہوں
حشر کے میداں میں بولی اے رضا بنت نبی
چادریں لوٹی ہیں جن ہاتھوں نے اہل بیت کی
ہاں انہی ہاتھوں کو دوزخ میں جلانے آئی ہوں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.