Bada Dil Dukhaya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Mesum Abbas
تھک گئیں رو کے تو خاموش ہو گئیں زہرا
زخم پہلو میں لیے آج سو گئیں زہرا
اے مدینے والو بڑا دل دکھایا
تمہارا دعوی تھا ہمدرد تم رسول کے تھے
حدیث پاک کے پابند اور اصول کے تھے
تمہی تو صحن نبوت میں مثل پھول کے تھے
نہ تم نبی کے جنازے میں نہ بتول کے تھے
کوئی بھی تو وعدہ تم نے نہ نبھایا
وہ بیٹی نازوں سے پالا جسے محمد نے
کبھی نہ گھر سے نکالا جسے محمد نے
خدیجہ بن کے سنبھالا جسے محمد نے
خود اپنے آپ میں ڈھالا جسے محمد نے
نرغہ ستم میں کیوں اسے بلایا
بتاؤ اہل مدینہ یہ تم نے کیا ہے کیا
نبی کی آل سے تم نے نبھائی خوب وفا
ستم ہے ام ابیھا کو تم نے تڑپایا
بلایا برسر دربار حق بھی چھین لیا
بنت مصطفی کو کیوں لہو رلایا
قبر زہرا سے یہی آج بھی آتی ہے صدا
کیا ستم مجھ پے ہوئے تم کو بتاؤں بابا
میرے محسن نے ولادت کے عوض پائی قضا
زخمی پہلو کو لیے کرتی رہی میں نوحہ
آگ لے کے آئے اور گھر جلایا
سند کے ٹکڑے کیئے اور گواہ جھٹلائے
بتول روئیں تو اس پہ بھی اعتراض آئے
بس ایک حجرے میں رونے کا اذن تھا ہائے
نبی کی لاڈلی بیٹی نے دکھ بہت کھائے
تادم شہادت کس قدر ستایا
چلے گئے وہ محبت کے دعویدار کہاں
چلے گئے وہ محمد کے جانثار کہاں
وہ جھوٹے لوگ شریعت کے ٹھیکیدار کہاں
کہو رسول کی بیٹی کا ہے مزار کہاں
قبر سیدہ پر روشنی نہ سایہ
کہاں تلک وہ مصائب بیاں کرے میثم
رسول زادی کے ماتم میں سوگوار ہیں ہم
سیاہ پوش ہے کعبہ اداس ہے عالم
فرش غم بچھایا بنت مصطفی کا
مظہر عابدی نے رو کے مرثیہ سنایا
علی کو قیدی بنایا گیا مدینے میں
حسن کو زہر کھلایا گیا مدینے میں
نبی کے گھر کو جلایا گیا مدینے میں
بغض کے جلوں کو کینہ پروروں کو
جب شہید سیدہ ہوئیں تو چین آیا
یہ ہے حدیث نبی کیوں اسے بھلایا ہے
کسی نے فاطمہ زہرا کو گھر رلایا ہے
سمجھ لو اس نے محمد کا دل دکھایا ہے
ہے خفا پیمبر بس یہ بات کہہ کر
کیوں غدیر کی طرح یہ قول بھی بھلایا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.