Ali Khamosh Baithe Hain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Ameer Hasan Aamir
سر کو جھکائے آستیں الٹے با حال زار آئے
سر پر مزار فاطمہ زہرا کی خاک ہے
زہرا کو دفن کر کے جو حیدر کرار آئے
دامن پھٹا ہوا ہے گریبان چاک ہے
علی خاموش بیٹھے ہیں اداسی گھر میں چھائی ہے
بنا مادر کے بچوں پر یہ پہلی رات آئی ہے
جدھر بھی دیکھتے ہیں جاں نظر آتی ہے بچوں کو
در و دیوار میں بس ماں نظر آتی ہے بچوں کو
یہ ننھے بچوں کو تقدیر کس منزل پہ لائی ہے
کہیں بستر پہ منہ ڈھانپے ہوئے زینب سسکتی ہے
کہیں کلثوم چپکے چپکے روتی ہے تڑپتی ہے
کہ ننھی بچیوں کے اشکوں سے بھیگی چٹائی ہے
کبھی کلثوم کو دیکھا کبھی زینب کو بہلایا
کبھی سوتے ہوئے حسنین کے بالوں کو سہلایا
کبھی پانی پلا کر شاہ کو ڈھارس بندھائی ہے
کہیں کس سے علی جو زخم دل پر کھائے بیٹھے ہیں
کلیجے سے حسن حسین کو لپٹائے بیٹھے ہیں
ہائے مشکل کشاء پہ وقت یہ مشکل کشائی ہے
کبھی لپٹے مصلے سے کبھی قرآن کو چوما
کبھی نعلین دیکھی بستر ویران کو چوما
کبھی تسبیح ماں کی آنکھوں سے اپنے لگائی ہے
کہا بچوں نے رو رو کر خدارا اب تو آ جاؤ
تھپک کر لوریاں دے کر ہمیں اماں سلا جاؤ
بتاؤ آج تک تنہا ہمیں کیا نیند آئی ہے
جو آئی ماں کی خوشبو فرق پر اک سائباں لے کر
وہ بچے اور بھی کچھ روئے زیادہ ہچکیاں لے کر
علی نے چادر زہرا جو بچوں کو اڑھائی ہے
اندھیرے سر پٹکتے ہیں اجالا کیوں نہیں ہوتا
یہ کیسی رات آئی ہے سویرا کیوں نہیں ہوتا
قسم اس رات نے بھی آج نہ ڈھلنے کی کھائی ہے
مسلسل رات بھر عامر سبھی کے اشک بہتے تھے
لگا کر سینے سے عینی علی بچوں کو کہتے تھے
تمہاری ماں سے اور ہم سے قیامت تک جدائی ہے
علی حسرت سے تکتے ہیں کبھی بیتاب ہوتے ہیں
میرے معصوم بچے کس طرح بن ماں کے سوتے ہیں
دوہائی خالق اکبر دوہائی ہے دوہائی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.