Aye Shaheedo Tum Kahan Ho
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Mir Hasan Mir
فصل گل ہے اب جہاں میں اے شہیدو تم کہاں ہو
تازگی ہے گلستاں میں اے شہیدو تم کہاں ہو
سبز و خرم دشت دنیا ہے تمہارے غم میں گریاں
بلبل شاہ گلستاں رو رو کہتے ہیں یہ ہر آں
میرے پھولو میرے غنچو اے شہیدو تم کہاں ہو
چل کے راہ حق پہ تم نے کام ایسا کر دکھایا
شہدائے کربلا سے اپنے وعدوں کو نبھایا
اے جوانوں عہد سازو اے شہیدو تم کہاں ہو
پرسہ دار کربلا تھے رونق فرش عزا تھے
عاشق خاک شفا تھے ساجد رب اولی تھے
شاہ دیں پر رونے والو اے شہیدو تم کہاں ہو
تم جلوسوں میں عزا کے چلنے والے آگے آگے
سوگواروں کو بچا کر سہ گئے خود بم دھماکے
راہ حق کے جاں نثارو اے شہیدو تم کہاں ہو
تم مؤذن تم مصلی قلب مومن کی تسلی
تم دعائے سیدہ کی ہر زمانے میں تجلی
عصمتوں کے پاسدارو اے شہیدو تم کہاں ہو
بن تمہارے کیا بہاریں کیسے نغمے کیا ترانے
چشم نم ہے لب پہ آہیں ہم ملیں گے کب نا جانے
پاس اپنے اب بلا لو اے شہیدو تم جہاں ہو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.