Shabbir Ka Main Hoon Deewana
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Mir Hasan Mir
شبیر کا میں ہوں دیوانہ آ موت مجھے سینے سے لگا
شبیر کے دست قدرت میں عیسی سے زیادہ قدرت ہے
ہاتھوں کا ہنر پھر کیا ہوگا گہوارے میں جب یہ طاقت ہے
فطرس نے جو بال و پر پائے جھولے سے لپٹ کر کہنے لگا
چہرے کی سیاہی نور بنی مقتل کی طرف جب جون چلا
اور آخری لمحے میں پایا شبیر کے زانو کا تکیہ
آرام ملا جب درد اٹھا ہر زخم نے کھل کر دی یہ صدا
جو ماں نے سبق سمجھایا تھا ہر دور میں اس کو یاد رہا
عباس یہی دہراتا ہوا بچپن سے جوانی تک آیا
غازی کی زباں میں کہتا ہے اب تک یہ علم لہراتا ہوا
سر کب سے رکھا ہے سجدے میں تسبیح کی کیا تعداد ہوئی
سجدے میں رسول اکرم کو تھی فکر کہاں ان باتوں کی
جب تک کے نواسہ پشت پہ تھا کہتا رہا دل پیغمبر کا
تیور یہ بتاتے تھے اس کے اے بانیء شر اک تیر ہے کیا
میں ڈھال ہوں اپنے بابا کی لشکر کے تو سارے تیر چلا
اصغر نے تبسم کی صورت مقتل میں رجز بس اتنا پڑھا
ہم کرب و بلا کے دیوانے جب تعزیہ لے کر چلتے ہیں
عاشور کے دن بھوکے پیاسے مظلوم کا ماتم کرتے ہیں
گر گر کے صدائیں دیتا ہے بہتے ہوئے خوں کا ہر قطرہ
گر آج خدا کی جانب سے کعبے کو اجازت مل جائے
مکے کی زمیں کو چھوڑ کے وہ خود کرب و بلا میں آ پہنچے
ہر وقت حسین کے روضے کا یہ پڑھ کے طواف کرے کعبہ
پہنچا جو در شبیر پہ وہ مرضیء شاہ ابرار ملی
رومال بتول کی صورت میں انمول اسے دستار ملی
یہ فیض ہے اس اک جملے کا جو حر نے بوقت فجر کہا
سوچو تو سہی اے میر حسن لمحے وہ بھلا کیسے ہوں گے
جب بزم امام مہدی میں تم شعر پڑھو گے اکبر کے
اور ساتھ تمہارے محفل میں ہر شخص یہی کہتا ہوگا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.