Hawa Par
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Mir Hasan Mir
پابندی لگائے کوئی بے پیر ہوا پر
کرتی ہے سفر مدحت شبیر ہوا پر
مشرق کی ہوائیں کبھی مغرب میں نہ آتیں
گر کھینچتا غازی خط شمشیر ہوا پر
اب صرف میں پانی پے بھروسہ نہ کروں گا
کرنا ہے عریضہ مجھے تحریر ہوا پر
تب جا کے ہوئی ہے وہ کہیں چلنے کے قابل
جب نام علی ہو گیا تحریر ہوا پر
ڈھونڈو نہ زمیں پر نہ ملی ہے نہ ملے گی
اصغر کے کف پا کی ہے تصویر ہوا پر
اسکت جو کہا ہو گئی خاموش خدائی
قبضہ ہے تیرا شاہ کی ہمشیر ہوا پر
جو ظرف میں کاغذ کے سماتا نہیں سجاد
وہ شعر میں کر دیتا ہو تحریر ہوا پر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.