Ab Tak Hai Zabano Pe Alamdar Alamdar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Uzair Abbas
اب تک ہے زبانوں پہ علمدار علمدار، عباس علمدار
اے شیرِ جواں اے پسرِ حیدرِ کرار
بن ہاتھوں کے کس طرح تو گھوڑے سے گرا تھا
یہ چشمِ تصور سے بھی سوچا نہیں جاتا
اے بازو بریدہ میرے سردار علمدار
اِک آنکھ میں پیوست رہا تیرِ ستمگر
افسوس کہ اُس وقت مگر تھے نہ میسر
جس وقت تجھے ہاتھ تھے درکار علمدار
شبیر تڑپتے رہے فرقت میں تمہاری
روتے ہوئے ہر بار تمہیں شہ نے صدا دی
خنجر کا ہوا جتنی دفعہ وار علمدار
مارا ہے تیرے بعد اُسے ایسے شقی نے
ظالم کی انگوٹھی کے نشاں رہ گئے منہ پہ
دیکھو ذرا معصومہ کے رخسار علمدار
جب چھانے لگا شامِ غریباں کا اندھیرا
وہ آ گئی پہرے پہ لیے ہاتھوں میں نیزہ
زینب نے نبھایا تیرا کردار علمدار
یوں بعد تیرے بن گیا ظالم کا نشانہ
پھر بالی سکینہ کا کھِلا نہ کبھی چہرہ
نیلے ہی رہے بچی کے رخسار علمدار
دیکھیں گی نگاہیں تیری کس طرح وہ منظر
اِک پل کو بھی ٹھہرے گا نہ نیزے پہ ترا سر
جب جائے گی زینب بھرے بازار علمدار
زینب کے بھی تو ہاتھ پسِ پشت بندھے تھے
بن ہاتھوں کے گھوڑے سے گرا جیسے تو ویسے
ناقے سے گری زینبِ لاچار علمدار
ہے بس یہ دعا سارے عزاداروں کے لب پر
دیں گے تجھے سب ماتمی پرسہ وہاں آ کر
کربل کا بنا دو ہمیں زوار علمدار
اب مجتبیٰ وہ وقت نہیں دور زیادہ
جب خونِ حسینی کا لیا جائے گا بدلہ
اور آپ کو دی جائے گی تلوار علمدار
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.