Mein Teri Sakina Hon Pehchan Mujhe Baba
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Uzair Abbas
میں تیری سکینہ ہوں پہچان مجھے بابا
مانگا تھا دعاؤں میں تم نے جسے بابا
چہرے پہ تماچوں کے نشاں کیسے چھپے ہیں
کیوں نیل سکینہ ترے چہرے پہ پڑے ہیں
مارے گئے بابا مجھے اس درجہ تماچے
رخسار مرے پھٹ گئے اس درد و جفا سے
ہیں ہاتھ تری بیٹی پہ سب کے اٹھے بابا
کیسا ہے یہ سر پر جو ترے زخم لگا ہے
ہائے میں فدا تیرا تو دامن بھی جلا ہے
چھینی گئی نیزے سے تری بیٹی کی چادر
دامن یہ جلا آتشِ خیام میں آ کر
ہوں زخمی بہت عصرِ عاشور ہی سے بابا
زخمی یہ ترے ہونٹ بتاتے ہیں سکینہ
عاشور کی جو پیاس تھی اب تک وہ بجھی نہ
کہتا ہے کہ دے دوں گا سواروں کو پلا کر
پھر شمر بہا دیتا ہے پانی کو زمیں پر
ملتی ہے خوشی اس کو تڑپا کے مجھے بابا
کیوں خون ترے کانوں سے رکتا نہیں بیٹا
کس نے ترے کانوں کا ہے یہ گوشت اکھاڑا
بابا مرے کانوں سے یوں نوچے گئے گوہر
میں درد سے چلا اٹھی کربل کی زمیں پر
تکلیف مجھے دے کر سب ہنستے رہے بابا
اے میری سکینہ مرا دل پھٹنے لگا ہے
گردن پہ تمھاری یہ نشاں کیسا پڑا ہے
ہاں سانس بھی اب لینے میں دشواری بڑی ہے
بیٹی تری جب بھی چلی پنجوں پہ چلی ہے
باندھے گئے اک رسی میں بارہ گلے بابا
کس درد سے گزری ہے سکینہ مری بچی
کُرتی ہے تری خون بھری کھال سے چپکی
بابا مجھے دُرے اتنے لگائے ہیں لعیں نے
خوں پھوٹ کے بہنے لگا ہر زخمِ بدن سے
پھر ہو گئے ہیں تازہ سب زخم مرے بابا
اے لختِ جگر کیا ہوا بابا کو بتاؤ
پہلو سے ذرا ہاتھ سکینہ یہ ہٹاؤ
آ جائے میرے پہلو کو آرام ذرا سا
ہیں ٹوٹی ہوئی میری کئی پسلیاں بابا
ہاتھ اس لیے پہلو پر ہیں میں نے رکھے بابا
یہ سرخیاں آنکھوں کی یہ مرجھایا سا چہرہ
تم جاگی ہوئی ہو بڑی مدت کی سکینہ
یہ کہہ کے ہوئی مجتبیٰ خاموش حزینہ
آپ آ گئے اب سوئے گی جی بھر کے سکینہ
دیں لوریاں ان زخمی ہونٹوں سے مجھے بابا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.