Lash Akber Ki Jw Maqtal Se Utha Laye Hussain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Uzair Abbas
لاش اکبر کی جو مقتل سے اٹھا لائے حسین
چاند کو شام کے بادل سے اٹھا لائے حسین
دیکھ لے آخری دیدار پسر مرتا ہے
سامنے آنکھوں کے یہ نورِ نظر مرتا ہے
دم ہے سینے میں رکا زخموں سے خوں جاری ہے
ہائے بانو تیرا گھر لٹنے کی تیاری ہے
چاند کو شام کے بادل سے اٹھا لائے حسین
ہاتھ پھیلا کے یہ چلائی کہ ہائے ہائے میرے لال
راس آیا نہ میرے بچے کو اٹھارواں سال
ٹکڑے تیغوں سے بدن ہو گیا سارا ہائے ہائے
کون تھا جس نے میرے شیر کو مارا ہائے ہائے
چاند کو شام کے بادل سے اٹھا لائے حسین
زخمی ہونے کی خبر کس نے میری پہنچائی
جھوٹ ہے میں نے تو ہرگز نہیں برچھی کھائی
مرگ سے پہلے ہو ماتم یہ زبوں ہے اماں
میرے کپڑوں پہ تو عباس کا ہے خوں اماں
چاند کو شام کے بادل سے اٹھا لائے حسین
بولی بانو کہ جو کہتے ہو خدا یونہی کرے
اے میرے لال یہ ماں تیری بلا لے کے مرے
مجھ کو معلوم ہوا خلق سے، جاتے ہو تم
ہائے میرے رونے کے سبب زخم چھپاتے ہو تم
چاند کو شام کے بادل سے اٹھا لائے حسین
سب تیرے دل کی میرے دل کو خبر ہے بیٹا
ہاتھ سینے پہ تیرا خون میں تر ہے بیٹا
سنسناتا ہے بدن جان چلی جاتی ہے
ہائے اس لہو سے تو میرے دودھ کی بو آتی ہے
چاند کو شام کے بادل سے اٹھا لائے حسین
اے میرے شیر تجھے لطفِ جوانی نہ ملا
دودھ پی پی کے پلے اور تمہیں پانی نہ ملا
مر گئے مجھ کو دلہن بھی نہ دکھائی بیٹا
خاک میں مل گئی بانو کی کمائی بیٹا
چاند کو شام کے بادل سے اٹھا لائے حسین
لاش اکبر کی جو مقتل سے اٹھا لائے حسین
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.