Abbas Na Raha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Uzair Abbas
غازی کی لاش پر تھا یہ نوحہ حسین کا
عباس نہ رہا مرا عباس نہ رہا
لو آج میرا سایہ بھی مجھ سے بچھڑ گیا
مرا عباس نہ رہا مرا عباس نہ رہا
اِک آنکھ میں تھا تیر تو اِک آنکھ خوں میں تر
منہ کے بل آیا زین سے غازی زمین پر
ہاتھوں کا بھی سہارا نہ ہائے وہ لے سکا
خود کو سنبھالتا بھی تو کیسے وہ زین پہ
گرز اتنی زور سے اسے مارا لعین نے
ہائے شکستہ سر مرے غازی کا ہو گیا
جاتے ہی اس کے کتنوں کے تیور بدل گئے
اب تک چھپے ہوئے تھے جو خنجر نکل گئے
آمادہ میرے قتل پہ لشکر یہ ہو گیا
میں نے جو سر کی سمت سے لاشہ اٹھا لیا
پیروں کی سمت سے مرا غازی بکھر گیا
پامال اس قدر تھا بدن میرے شیر کا
اعضا تھے ایک دوسرے سے دور اس قدر
مقتل میں میں نے دیر لگائی بہت مگر
میں پھر بھی پورا جسم اکٹھا نہ کر سکا
تکتے ہیں راہ کوزے لیے تشنہ کام سب
کہتی ہے ان سے آتے ہی ہوں گے چچا بس اب
کیسے کہوں سکینہ سے امید نہ لگا
ہاتھوں کو تھام کر جسے چلنا سکھایا تھا
غربت نے آج یہ بھی ہمیں دن دکھا دیا
بازو ہے میری گود میں اس کا کٹا ہوا
دل پھٹ رہا تھا مجتبیٰ آنکھیں تھیں اشک بار
شبیر کافی دیر تلک ہائے بار بار
زینب کی چوم چوم کے کہتے رہے ردا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.