Uljhi Sansein Hain Meri Hogai Halat Aisi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Uzair Abbas
اُلجھی سانسیں ہیں میری ہو گئی حالت ایسی
زخمی پیروں کو زمیں پر میں رکھ نہیں پاتی
ہے کمر خم میری چہرے سے ضعیفی ہے عیاں
میری غربت کی گواہی ہیں یہ نیلوں کے نشاں
زندہ رہنے کے میرے کم ہی بچے ہیں امکاں
شمر کے درّوں نے کر دی ہے یہ حالت میری
ایک ہی رسی میں باندھے گئے بارہ کے گلے
چلے کوئی جو قدآور تو گلا میرا کھنچے
بس اسی ڈر سے کہ رسّی سے کہیں دم نہ گھٹے
پنجوں کے بل پہ سفر سارا میں طے کرتی رہی
چلتے ناقے سے گری تھی میں زمیں پر بابا
سانس لینے میں ہے دشواری برابر بابا
لگتا ہے ٹوٹی ہے پسلی کوئی اندر بابا
سانس بھی اب تو سکینہ سے نہیں لی جاتی
شدتِ درد کا ہوتا ہے مجھے اندازہ
پسلی ٹوٹی ہو تو دشوار ہے کروٹ لینا
سوتی ہوں گی بھلا اس درد میں کیسے زہرا
یہ اذیّت تو مجھے بھی نہیں سونے دیتی
بعد عمو کے سنو بابا ہمارا ہے یہ حال
ہو گئی شام کے لوگوں کی بھی اب اتنی مجال
میرے بارے میں کنیزی کا وہ کرتے ہیں سوال
کیا محمد کے نواسے کی نہیں میں بیٹی
کیا بتاؤں کہ کیا حالت میری ہو جاتی تھی
پھیر لیتی تھی نظر دیکھ نہیں پاتی تھی
مارتا تھا کوئی جب آپ کے ہونٹوں پہ چھڑی
دیکھیے کتنے ہیں دندانِ مبارک زخمی
مجتبیٰ باپ کے سر کو جلے دامن میں لیے
منہ پہ منہ رکھ کے وہ خاموش ہو گئی ایسے
باپ کے سینے پہ سوئی ہو سکینہ جیسے
ایسی خاموش ہوئی کہ نہ کبھی پھر بولی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.