Shaheedon Zindabad
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Jafar Bhai
زندہ باد زندہ باد
سلام اے کربلا والوں
نبی والوں خدا والوں
مٹے اسلام کی خاطر
فنا ہو کر بقا والوں
تم ہی سے حق کی تنویریں
تمہارے دم سے تکبیریں
تمہارے نام سے روشن
مسلمانوں کی تقدیر ہے
دلیل حق رسی تم ہو
نشان رہبری تم ہو
جہان کفر و ظلمت میں
حقیقی روشنی تم ہو
تمہارا عزم فولادی
عمارت کفر کی ڈھا دی
ملوکیت کو ٹھکرا کر
دیا پیغامِ آزادی
خدائی فوج کے صفدر
بڑھے جب غیز میں آ کر
جیالے چند تھے لیکن
رہے بھاری ہزاروں پر
ستم افلاک نے ڈھایا
زمیں کو زلزلہ آیا
رَہے حق میں مگر تم نے
قدم پیچھے نہ سرکایا
سجایا دین کا گلشن
اُجاڑا کفر کا خلمن
چلی جب کفر کی اندھی
چراغ حق کیا روشن
طلسمِ میں مکر و شر کچلا
غرور فتنہ گر کچلا
حسینیت کے قدموں سے
یزیدیت کا سر کچلا
جَزا ایثار کی پائی
بہار سرمدی پائی
ملائیں موت سے آنکھیں
حیات دائمی پائی
جو تم سے لو لگاتے ہیں
وہ شمعِ حق جلاتے ہیں
تمہارے پاک قدموں پر
فرشتے سر جھکاتے ہیں
صداقت پر جو ہے مرتے
وہ باطل سے نہیں ڈرتے
کسی بے دین حاکم کی
کبھی بیت نہیں کرتے
وہ عباسِ وفا پیکر
شجاعت وِرث کا جوہر
علی سیرت علی صورت
دلاور پر شکن صفدر
جو پیشانی پہ بَل ڈالا
ہوا کا رخ بدل ڈالا
اٹھے جب یا علی کہہ کر
سرِ نخوت کچل ڈالا
زہے ہم شکل پیغمبر
عجب دل تھا عجب تیور
بڑھے تھے دین کی خاطر
کلیجہ ہاتھ میں رکھ کر
مرادیں اُمّ لیلیٰ کی
تمنّا بنتِ زہرا کی
محمد کی جوانی کی
اجل سورت کو دیکھا تھی
جو وقت ایسا بھی آتا ہے
مجاہد جھیل جاتا ہے
جواں بیٹے کی میت کو
پدر تنہا اٹھاتا ہے
زَہِ اصغر کی قربانی
جہادِ نو کا وہ پانی
ابھی چھ ماہ کا سن تھا
دکھایا جوشِ ایمانی
اُدھر تیروں کی بارش تھی
اِدھر میدان کی خواہش تھی
زباں تھی خشک ہونٹوں پر
کہ بابا سے سفارش تھی
کبھی دنیا نے سوچا ہے
جو اس بچے کا جذبہ ہے
گلے پر تیر لگتے ہی
تبسم لب پہ آتا ہے
اِدھر تھا صبر کا پیکر
مگر اللہَ ہِ مادر
گزارا شکر کا سجدہ
علی اصغر کی ہمت پر
تم ہی سے دم میں دم باقی
ہمارا بھی بھرم باقی
شہیدوں سے وسیع کہہ دو
جو تم باقی تو ہم باقی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.