Ho Salam Us Pe Ke Jo Qaidi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Irfan Haider
ہو سلام اس پر کہ جوقیدی بھی ہے بیمار بھی
پاؤں میں ہیں آبلے اور آبلوں میں خار بھی
آنکھ میں آنسو اور زخم جگر میں
ہونٹوں پہ ردا کا نوحہ
کرب وبلا سے ہائے شام تلک وہ
کانٹوں پہ سفر کرتا تھا
بے ردا سیدانیاں اس پر ستم بازار بھی
دیکھنے والی آنکھوں نے دیکھا
اس راہ میں یہ بھی منظر
ایک مسافر پابند سفر ہے
خود اپنی لاش اٹھا کر
یہ امام وقت ہے اور قافلہ سالار بھی
کہتا تھا کہ طوق گراں آیا میرے حصے میں
ورنہ اس فوج میں خنجر بھی ہیں تلوار بھی ہے
خون رگوں کا یا غیرت ہاشم
کہتی ہے جھکا لے سر کو
طوق و سَلاسِل کیا قید کریں گے
ہائے صبر کے اس پیکر کو
سوگ اٹھائے کس طرح ہے راہ میں بازار بھی
دیکھ کے زینبؑ سجادؑ کی حالت
فریاد یہی کرتی تھی
میرا یقیں ہے ایمان ہے میرا
اے شام کے بیکس قیدی
روئیں گے تجھ پر سدا مسند بھی اور دستار بھی
پوچھا اِک شخص نے شبیرؑ تمھارا ہے کون
کہا بابا بھی ہے آقا بھی ہے سردار بھی ہے
نوحہ کُناں ہیں عرفان اور مظہر
تاریخ و مقاتل سب ہی
آلِ پیمبرؑ اور شام کی گلیاں
شبیرؑ کا بیٹا قیدی
کیوں نہ ہوں محو فغاں
قِرطاس بھی اشعار بھی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.