Basar ho maahe
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Mir Rehan Abbas
اۓ خدا آگیا ماہِ عذا
بسر ہو ماہِ عذا اس طرح خداۓ حسین
ہو ہاتھ سینے پہ لب پر رہیں سداۓ حسین
نمازِ عشق ہے پڑھنی کے باوزو ہو کر
میں انتظار مے ہوں کب مجھے بلاۓ حسین
بسر ہو ماہِ عذا۔۔۔
لرزتے گزرے نبی نینوا کی دھرتی سے
نہ کر سکا کوئ آباد ماں سواۓ حسین
بسر ہو ماہِ عذا۔۔۔
وہ رکھنا دھار گلے پر تھی انتیھاۓ خلیل
یہاں پہ لاشہ اکبر ہے ابتدای حسین
بسر ہو ماہِ عذا۔۔۔
سنا تو شکر کے سجدے میں گر گئیں فروا
جب ایک لاشے کو گیٹیری میں لے کے آئے حسین
بسر ہو ماہِ عذا۔۔۔
جواب کیوں نہی دیتے مجھے علی اکبر
بہین کے قط کو اب آخر کسے سنائے حسین
بسر ہو ماہِ عذا۔۔۔
جُھکی ہے شہ کی کمر جبسے تم عباس گئیں
کسے آوز دے بھائی کسے بلاۓ حسین
بسر ہو ماہِ عذا۔۔۔
قدم کو آگے بڈھایا کبھی گۓ پیچھے
چلے جو میّتیں بیشیر کو اٹھاۓ حسین
بسر ہو ماہِ عذا۔۔۔
کلیجہ پھٹتا ہے ریحان اور خادم کا
بتول کہتی ہیں جس وقت روکے ہاۓ حسین
بسر ہو ماہِ عذا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.