Amma Fizza Bata De Mujh Ko Pathar Kyun Aa Rahe Hain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Sangat Ali Raza
اماں فضہؑ بتا دے مجھ کو پتھر کیوں آ رہے ہیں
کیسا ہے یہ چراغاں دِل ڈوبے جا رہے ہیں
ہونے لگی اذانیں کیسے سَروں کو ڈھانپیں
بازو بندھے ہوئے ہیں خوں رو رہی ہیں آنکھیں
آنکھوں کے خوں سے رستے خوں مِیں نہا رہے ہیں
سجادؑ کا کلیجہ صد پاش ہو رہا ہے
اِک ایک زخم اِن کا اِس غم مِیں رو رہا ہے
زینبؑ کا نام لے کر اعدا بُلا رہے ہیں
نیزوں پہ جتنے سَر ہیں اِک سَر ہے اُن مِیں ایسا
آنکھیں ہیں بند اُس کی اور خاک پر ہے گِرتا
عباسؑ کا یہ سَر ہے تیور بتا رہے ہیں
اِتنا چلے ہیں پیدل کانٹوں پہ سارے قیدی
تھک جاتی چلتے چلتے چلتی اگر زمیں بھی
پیروں کے آبلے بھی آنسو بہا رہے ہیں
ہیں لوگ کس طرح کے ہم سے دُعا کرائیں
اے قیدیوں دُعا دو یہ دِن نہ ہم پے آئیں
لے کر دُعائیں ہم سے دِل بھی دُکھا رہے ہیں
ماؤں کی گودیوں سے لپٹے ہوئے ہیں بچے
ہیں ہاتھ رسیوں مِیں ماؤں سے ایسے جکڑے
بچے جو گِر رہے ہیں وہ مرتے جا رہے ہیں
نیزے پہ رو رہا ہے مشکل کشاء کا بیٹا
نا محرموں کے لب پر آیا ہے نام میرا
مجھ کو کنیز زادے یوں بھی رُلا رہے ہیں
کیوں قافلہ رُکا ہے بجتے ہیں شادیانے
لہرا رہے ہیں اعدا خوش ہو کے تازیانے
کیوں جشن کا سماں ہے سب مُسکرا رہے ہیں
کرنے لگا تلاوت نیزے پہ ابنِ حیدرؑ
ناموسِ مصطفیؐ کے سَر پہ نہیں ہے چادر
نظروں کو اشقیاء کی سرورؑ ہٹا رہے ہیں
ریحانؔ قیدیوں مِیں برپا تھا شورِ گریہ
پلکوں سے کر رہی تھیں ماتم جو بنتِ زہراؑ
سجادؑ نوحہ خواں ہیں نوحہ سُنا رہے ہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.