Alam sajao kisi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Irfan Haider
بچھا کے فرشِ عزا فاطمہ کو یاد کرو
علم سجاو کسی بے ردا کو یاد کرو
سیاہ کپڑے بدن پر ہوں صرف اس غم میں
رُکیں نہ آنکھ سے آنسُو کبھی محرم میں
لباسِ حضرتِ زینُ العبا کو یاد کرو
علم سجاو کسی۔۔۔
کبھی سبیل سے پانی پیئو تو یہ کہہ کر
میں تیری پیاس پہ قربان حسین کی دُختر
کبھی سکینہ کبھی باوفا کو یاد کرو
علم سجائو کسی۔۔۔
گلے میں شالِ عزا اور ہاتھ سینوں پر
علم اُٹھا کہ چلو یوں دھکتے شعلوں پر
جو بے کسو ں پہ ہوئی اُس جفا کو یاد کرو
علم سجائو کسی۔۔۔
جھُلاو جھولا کسی بے زبان کا جب بھی
تو یاد کرنا ذرا بے کسی وہ بانو کی
کبھی رُباب کی آہ و بُکا کو یاد کرو
علم سجاو کسی۔۔۔
غمِ حسین ملا ہے تمہیں مقدر سے
صدا حسین کے ماتم کی آئے گھر گھر سے
حسین حسین کرو کربلا کو یاد کرو
علم سجاو کسی۔۔۔
وہ جس نے دین کی خاطر لُٹا دیا گھر کو
خدا کی راہ میں جس نے کٹا دیا سر کو
پڑھو نماز تو اُس بے خطا کو یاد کرو
علم سجائو کسی۔۔۔
علم جو حضرتِ عباس کا اُٹھاتے ہیں
دلِ بتول سے لاکھوں دُعائیں پاتے ہیں
علم کے سائے میں آؤ دُعا کو یاد کرو
علم سجائو کسی۔۔۔
کبھی یہ سوچ کے تم دیکھنا پھریرے کو
یہی تو زینبِ مضطر کی آس تھا لوگو
علم کو دیکھو تو اُس بے ردا کو یاد کرو
علم سجاو کسی۔۔۔
بہن کے سامنے دولہا بنے کوئی بھائی
جو اپنے بھائی کا سہرا نہ دیکھنے پائی
اُسی غریب بہن کی صدا کو یاد کرو
علم سجاو کسی۔۔۔
خدا ناخواستہ قسمت یہ دن جو دِکھلائے
کسی جوان کو جوانی میں موت آ جائے
تو تم شبیہہِ نبی کی قضاء کو یاد کرو
علم سجاو کسی۔۔۔
جو قتل گاہ کو بالوں سے جھاڑ کر روئی
صدا ہے مظہر و عرفان یہ اُسی ماں کی
میری غریب میرے بے خطا کو یاد کرو
علم سجاو کسی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.