Alam hamara
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Safdar Abbas
کتنے زمانے گزر گےء
علم ہمارا جھکا نہیں
جنوں سے غم میں قیادتوں کا
جو سلسلہ تھا رکا نہیں
چھو رہا ہے عرش کی بلندیاں
گر رہا ہے ظالموں پہ بجلیاں
کہ اس علم کی بلندیوں پر
جنابِ زہرا کی ہے دعا
علم ہمارا رہے گا اونچا
ستم کی لاکھوں چلے ہواییں
اسی علم پر مراد مانگے
تمام عالم کے ساتھ ہم بھی
ہے اس علم کی قیادتوں میں
حسینیت بھی جلوس غم بھی
ہم اس علم سے ہی مانگتے ہیں
دوا سفارش اور وفاییں
علم ہمارا رہے گا۔۔۔
اسے وسیلے بنا کے مانگو
جو مانگو پروردگار دیگا
جو اس کی ساے میں سانس لے گا
یہ اس کی نسلیں سوار دے گا
جب اس پہ سایہ ہے سیدہ کا
تو اس کے ساے میں کیوں نہ جاے
علم ہمارا رہے گا۔۔۔
حسین کرتے تھے ناز جس پر
اسی مسیحا کا یہ علم ہے
جو موت ٹالے نظر اٹھا کر
اسی مسیحا کا یہ علم ہے
تو کیوں نہ پھر اس علم کو گھر گھر
اٹھاے بیٹے سجاے ماییں
علم ہمارا رہے گا۔۔۔
جہاں پہ عباس کا علم ہو
وہاں پہ مشکل کا کام کیا ہے
علم اٹھاتے ہی جان لو گے
کہ موت کیا اور دوام کیا ہے
حیات تسقسیم کرتی جائے
حیات جو چھو کر چلی ہوائیں
علم ہمارا رہے گا۔۔۔
ہماری عزت ہشم ہمارا
عظیم تر ہے علم ہمارا
رکھے گا دنیا و آخرت میں
قسم خدا کی بھرم ہمارا
کریں گے رایج ہم اک نعرہ
علم اٹھاییں نجات پائیں
علم ہمارا رہے گا۔۔۔
وظیفہ صفدر ہے زندگی کا
عقیدہ ہے مظہر عابدی کا
علم یہ جس نے لگایا گھر پر
نہ ہوگا محتاج وہ کسی کا
ہمارے دعوے پہ جن کو شک ہو
وہ آ کے قسمت کو آزماے
علم ہمارا رہے گا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.