Aflaak pe rone ki
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Anj. Masoomeen
افلاک پہ رونے کی ماتم کی صدا جاے
محتاج ہے یہ دنیا دنیا تمہیں کیا دیگی
شبیر کی مادر ہی بس تم کو دعا دیگی
شبیر کا ہے غم یہ سودا نہ کیا جائے
افلاک پہ رونے کی۔۔۔
ماتم ہے شہ دیں کا آے ہیں انبیاء بھی
مشکل کشا کے ہمراہ آے ہیں مصطفیٰ بھی
ماتم کے تصدق کو ملحوظ رکھا جائے
افلاک پہ رونے کی۔۔۔
رومال فاطمہ کا پھر پایں گے یہ آنسوں
تسکین دل زہرا بن جایں گے یہ آنسوں
آشکوں کے سمندر کا نظرانہ دیا جائے
افلاک پہ رونے کی۔۔۔
درپیش آی مشکل صبر و رضا وفا میں
اسلام گر رہا تھا میدان کربلا میں
عباس نے کہا جب ہاتھوں کو دیا جاے
افلاک پہ رونے کی۔۔۔
زینب کی فاطمہ کی کلثوم کی صدا ہے
صابر دل حزیں کی کلثوم کی صدا ہے
شبیر کا ہے ماتم جی بھر کے کیا جائے
افلاک پہ رونے کی۔۔۔
آنکھوں سے آشک جاری سینوں سے لہو جاری
شبیر کے ماتم میں موت آے تو پھر پیاری
ماتم پہ حرف آے تو سر بھی دیا جائے
افلاک پہ رونے کی۔۔۔
مقتل میں سر کٹاے انصار سب سدھارے
میت جوان کی ہے شبیر ہیں اکیلے
لاشہ علی اکبر کا کس طرح اٹھا جاے
افلاک پہ رونے کی۔۔۔
ھل من کی ایک صدا نےمیداں میں اسکو لایا
گردن پہ تیر کھا کر اصغر نے مسکرایا
پرسہ علی اصغر کا زہرا کو دیا جاے
افلاک پہ رونے کی۔۔۔
دل چھوڑ آیا غازی پہلوے سکینہ میں
عباس سر جھکائے ہیں نہر علقمہ میں
پیاسوں کو کس طرح سے سیراب کیا جائے
افلاک پہ رونے کی۔۔۔
مظلوم کے نوحے کو رو رو کے پڑھا جائے
شبیر کی مادر کو پرسہ یوں دیا جائے
اقبال شہ کا نوحہ آشکوں سے لکھا جائے
افلاک پہ رونے کی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.