Sakina so rahi hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Umam Nasirabadi
سنای کس نے یہ زنداں میں لوری
سکینہ سو رہی ہے
خدارا زور سے بولے نہ کوئی
سکینہ سو رہی ہے
کہا بانو نے اٹھو شاہ زادی
ہوی کیا بات جو مادر سے روٹھی
اٹھو بابا کا سر آیا ہے بی بی
مگر زنداں کی ہر دیوار بولی
سکینہ سو رہی ہے
تمہارے گوشوارے مل گےء ہیں
در زندان سارے کھل گےء ہیں
رہائی مل گیء جاتی ہوں گھر کو
مگر سجاد کی آواز آی
سکینہ سو رہی ہے
نہ اب مارے گا کوئی بھی طمانچے
نہ پھر ہونگے کبھی رخسار نیلے
گلا باندھا نہ جاے گا رسن میں
جو آیا شمر تو اس سے کہونگی
سکینہ سو رہی ہے
ردا چھوٹی سی اک سر پر اڑھادو
چلو عباس سے تم کو ملادوں
تمہاری مشک ہے اور ان کا سینہ
جو دیکھے آسماں کہتا ہے وہ بھی
سکینہ سو رہی ہے
رسن کا زخم اشکوں سے دھلا دوں
تیرے بالوں سے یہ مٹی چھڑادوں
تیرے تلوؤں کے چھالوں کی دوا دوں
اجل بولی کہ یہ کیسے چلے گی
سکینہ سو رہی ہے
ہوے جب شام کے ساے بھی گہرے
پرندے چہچہاتے جا رہے تھے
کہا بانو نے اے اڑتے پرندوں
صداییں روک لو کچھ دیر اپنی
سکینہ سو رہی ہے
اندھیرا رویا سناٹے سے مل کر
فلک گرنے لگا دھرتی کے اوپر
ہلانے پر بھی جب بچی نہ جا گی
تو بولی یہ فضاؤں کی خموشی
سکینہ سو رہی ہے
بنانے قبر جب سجاد اٹھے
تو وہ ناد علی دہرا رہے تھے
بندھے ہاتھوں سے چاہا قبر کھو دے
اچانک پاؤں کی زنجیر چھلکی
سکینہ سو رہی ہے
عجب کی جا ہے یہ ریحان دیکھو
بلند آواز سے ہر گز نہ بولو
یہاں تو فاتحہ بھی دھیرے پڑھنا
یہاں آواز ہو جاے نہ اونچی
سکینہ سو رہی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.