Zakhme zehra
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Mir Arif Ali
زہرا پہ ستم یہ کیسا ہوا
زینب نے یہ پوچھا حیدر سے
کیا مارا ہے ظالم نے بابا
پہلو کو ماں کے پتھر سے
یہ ہاتھ پہ کس نے ظلم کیا
بتلایےء مجھکو بابا علی
دروں سے بڑی بے دردی سے
کن فز نے مارا تھا بیٹی
پھر اس دن اللّٰہ کی قسم
تسبیح ہی نہ اٹھی مادر سے
زہرا پہ ستم یہ۔۔۔
پھر پوچھا بلک کر زینب نے
یہ نیل ہے کیسے شانوں پر
دروں کے نشاں ہے یہ بیٹی
کہنے لگے حیدر یہ رو کر
پھر چومکے بیٹی کہ بازو
روے ہیں لپٹ کر دختر سے
زہرا پہ ستم یہ۔۔۔
بابا یہ زخم جو ہے سر پر
یہ کیسے لگا بتلاؤ مجھے
یہ سن کے تڑپ کے کہنے لگے
اے بیٹی بتاؤں کیسے تجھے
تلوار سے ظالم نے مارا
یوں خون بھی جاری ہے سر سے
سب زخم تو بھر ہی گےء بابا
پہلو سے مگر خون ہے جاری
جلتا ہوا در پہلو پہ گرا
سر پیٹ کے یہ کہتے ہیں علی
پھر دروں سے تلواروں سے
اور زخم لگے ہیں خنجر سے
زہرا پہ ستم یہ۔۔۔
ماں زہرا کے چہرے پر یہ
کیسے ہیں نشاں میرے بابا
منہ پھیر کے مارا چہرے پر
حیدر نے پھر کچھ بھی نہ کہا
بابا کے آنسوں بیٹی نے
پھر پوچھنے اپنی چادر سے
زہرا پہ ستم یہ۔۔۔
ماں کی مظلومی پر زینب
حیدر سے لپٹ کر رونے لگی
یہ دیکھ کے روحِ محمد نے
دونوں تو تسلیاں کردی
ناصر ہے اس پل آپ میرے
کہتے ہیں علی پیغمبر سے
زہرا پہ ستم یہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.