Ye gham ki hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Mirza Sikander Ali
یہ غم کی ہے داستاں ایسی
کہ جس میں ہے دل فگار زہرا
کوی بھی سنتے ہی رو کے کہتا
ملا تجھے کب قرار زہرا
پدر کے غم میں دیا نہ رونے
کبھی بھی امت نے ہاے تجھکو
وہ کہہ رہے تھے کہ ہے پریشاں
نہ رو تم بار بار زہرا
یہ غم کی ہے۔۔۔
گلے میں رسی علی کے باندھی
ستمگروں پھر اسکو کھینچا
وہ شاہ خیبر ہے صبر اس کا
اسی پہ ہے جانثار زہرا
یہ غم کی ہے۔۔۔
جلا کے گھر کو ستایا بے حد
گرایا دروازہ جلتا تجھ پر
شکم میں محسن کو بھی ہے کھویا
ہے ظلم تجھ پر ہزار زہرا
یہ غم کی ہے۔۔۔
ستم جو گزرے ہیں ظالموں کے
سنا کے احوال سارا اپنا
نبی کے روضے میں رو رہی ہے
تڑپ کے لہلو نہار زہرا
یہ غم کی ہے۔۔۔
چھپا کے ہر غم کو دل ہی دل میں
وہ چل بسی اس جہاں سے گھٹ کر
ہے مضطرب دونوں بیٹیاں بھی
علی بھی ہے غم گسار زہرا
یہ غم کی ہے۔۔۔
لپٹ کے حسنین رو رہے ہیں
اب اٹھکے اماں جواب دے دو
تمہارے بن ہم جیےءنگے کیسے
نہ دل کو ہے اب قرار زہرا
یہ غم کی ہے۔۔۔
وہ کیسی خوشیاں کا تھا زمانہ
نبی کا گلشن بھرا ہوا تھا
خزاں جونہی گھر میں تیرے آی
چلی گیء سب بہار زہرا
یہ غم کی ہے۔۔۔
علی کا وارث ابھی ہے زندہ
بوبر ظہور اسکا ہوگا اک دن
باقی میں ہوگی عزاے سرور
بنے گا تیرا مزار زہرا
یہ غم کی ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.