Jab ghar gaye Kofe mein Muslim ke dulare
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Farzandane Muslim recited by Ali Muhammad Sultanpuri
چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی سے رو کر پوچھا
بھیا اتنا تو بتا دو کہ کہاں ہیں بابا
ہم مسافر ہیں یہاں کوئی نہیں ہے اپنا
ہم کو پردیس میں اب کون سہارا دے گا
ہر سمت اندھیرا ہے کہاں جائیں گے بھائی
لگتا ہے ہمیں بابا نہ مل پائیں گے بھائی
دونوں بچوں کا وہاں کوئی مددگار نہ تھا
صرف تنہائی تھی یاور نہ تھے غمخوار نہ تھا
وہ بھٹکتے رہے در در کوئی دلدار نہ تھا
کوئی دونوں کی مدد کرنے کو تیار نہ تھا
تھک کر کے جو گرتا تھا کبھی چھوٹا برادر
چلتا تھا بڑا بھائی اسے گود میں لے کر
رات کالی تھی اندھیرے میں وہ دونوں بچے
سہمے سہمے ہوئے ایک پیڑ پہ چھپ کر بیٹھے
رات بھر لپٹے تھے آپس میں وہ غم کے مارے
سسکیاں لیتے تھے اور روتے تھے چپکے چپکے
آہٹ جو کوئی ہوتی تھی گھبراتے تھے دونوں
پتے بھی کھڑکتے تھے تو ڈر جاتے تھے دونوں
اک کنیز آئی صبح اس کو تھا پانی بھرنا
اس نے معصوموں کا پانی میں جو دیکھا چہرہ
دونوں بچوں سے یہ گھبرا کے اسی دم پوچھا
کون ہو آئے کہاں سے ہو بتا دو اتنا
دونوں نے کہا زخم بہت کھائے ہیں بی بی
ہم لوگ مدینے سے یہاں آئے ہیں بی بی
نام یثرب کا سنا جب تو وہ تڑپی اک بار
لے کے بچوں کو چلی گھر کی طرف وہ دلدار
جا کے مالکن سے بتانے لگی سب حال زار
مومنہ نے کیا شہزادوں کو رو رو کر پیار
کہنے لگی ڈرنا نہ میری جان ہو دونوں
آقا کے دلارو میرے مہمان ہو دونوں
مطمئن ہو گئے جس وقت کی وہ ماہ لقہ
لے گئی بچوں کو حجرے میں کنیز زہرا
کھانا پانی جو دیا بچوں کا دل بھر آیا
سامنے نظروں کے ماں باپ کا چہرہ آیا
بابا کے لیے محو بکا ہو گئے دونوں
بن کھائے پیئے روتے ہوئے سو گئے دونوں
دیکھا حارث کو تو معصوم بہت گھبرائے
زلفیں ظالم نے جو پکڑی تو جگر تھرائے
لے چلا کھینچتا معصوموں کو ظالم ہائے
مومنہ نے کہا حارث تجھے موت آجائے
معصوم ہیں پردیسی ہیں ان پر نہ ستم کر
حیدر کے گل تر ہیں یہ زہرا کے گل تر
ہائے مسلم کے پسر چاند ستارے دونوں
خواب سے چونک کے اٹھے جو دلارے دونوں
آہیں بھرنے لگے حجرے میں وہ پیارے دونوں
روئے بے ساختہ تقدیر کے مارے دونوں
رونے کی صدا سن کے اٹھا حارث ملعون
خنجر لیے حجرے میں گیا حارث ملعون
کتنا ملعون تھا حارث کو ترس نہ آیا
مومنہ کی نہ سنی ایک اسے قتل کیا
بال بچوں کے پکڑ کر وہ ستمگر نکلا
بچے کہتے تھے ہمیں مار کے کیا پائے گا
درہم و گنج دلوائیں گے جتنا تو بتا دے
لے چل کے مدینے ہمیں اماں سے ملا دے
لے کے ملعون یتیموں کو نہر پہ پہنچا
تیغ معصوموں کو دکھلا کے وہ ظالم بولا
تم ہی بتلاؤ گلا کاٹوں میں پہلے کس کا
چھوٹے بھائی نے گلا اپنا بڑھا کر یہ کہا
میں دیتا ہوں سر تیغ ادھر موڑ دے حارث
بس میرے بڑے بھائی کو اب چھوڑ دے حارث
پھر بڑے بھائی نے چھوٹے کو ہٹایا بڑھ کر
رکھ دیا اپنا گلا تیغ کے نیچے جا کر
بولا حارث سے کہ احسان یہ کرنا مجھ پر
میرے بھائی کو دکھا کر نہ چلانا خنجر
ملعون تھا بے دین تھا وہ دشمن حیدر
سر کاٹا بڑے بھائی کا چھوٹے کو دکھا کر
چھوٹے بھائی نے لہو بھائی دیکھا جس دم
لوٹ کر خون میں بھائی کہ وہ تڑپا پر غم
دیکھ کر سوئے نہر کہتا تھا کہ ہائے ماتم
بھائی ٹھہرو کے ذرا دیر میں آتے ہیں ہم
یہ دیکھ کے ملعون نے تلوار چلائی
اور ہو گئی بیکس کے سر و تن میں جدائی
سر کو جب کاٹ چکا تن کو نہر میں ڈالا
چھوٹے بھائی کی طرف بھائی کا لاشہ آیا
ہائے شہزادوں کا آپس میں جو لپٹا لاشہ
دونوں مظلوموں کی مظلومی پہ رویا دریا
واعظ جو ستم دونوں یتیموں پہ ہوا ہے
اس ظلم کو لکھ کر کے قلم کانپ رہا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.