Tareekh Ke Kirdar O Kis Baat Mein Tum Kam Ho
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Nadeem Sarwar
نسبت ہے پیمبر سے نسبت تمہیں حیدر سے
اس نسبت مولا سے تم دور رہے شر سے
تم آنکھ ملاتے ہو ہر وقت ستمگر سے
جو درس ملا تم کو سلمان سے بوذر سے
تم روپ وہی دھارو کس بات میں تم کم ہو
رستہ نہیں منزل ہو دھڑکن نہیں تم دل ہو
مظلوم کے تم حامی ہر ظلم کے قاتل ہو
انسان کی عظمت کے ہر باب میں شامل ہو
ظلمت کے سمندر میں تم نور سا ساحل ہو
ماتم کے طلبگارو کس بات میں تم کم ہو
دریا ہو سمندر ہو تم سیپ ہو گوہر ہو
تم مرد قلندر ہو صحرا میں گل تر ہو
تم عزم ابوذر ہو تم فکر کے قنبر ہو
تم حر کا قبیلہ ہو تم جون کا لشکر ہو
اے غم کے علمدارو کس بات میں تم کم ہو
کیا درس لیا تم نے اکبر کی جوانی سے
کیا سیکھا بتاؤ تو کربل کی کہانی سے
مت بہلو خطیبوں کے الفاظ و معانی سے
محفوظ حقیقت کو رکھنا ہے کہانی سے
اے علم کے معیارو کس بات میں تم کم ہو
زینب کی ردا تم سے کرتی ہے سوال ایسا
کس غم میں بہاتے ہو آنکھوں سے لہو اپنا
کیا گھر میں تمہارے بھی پیغام میرا پہنچا
جس دین کے لاشے پہ کام آیا میرا پردہ
لاج اسکی رکھو دیکھو کس بات میں تم کم ہو
عباس کے پرچم سے سیکھی ہے وفاداری
آنکھوں میں تمہارے ہے ایمان کی بیداری
قسمت سے ملی تم کو مظلوم کی غمخواری
ظالم کے لئے اب بھی تم تیغ ہو دو دھاری
مظلوم کے غمخوارو کس بات میں تم کم ہو
شبیر کے ماتم میں ایماں کی حرارت ہے
یہ عین عبادت ہے یہ عین شریعت ہے
شبیر کے پیکر میں اسلام کی نصرت ہے
خنجر کے تلے دیکھو قائم جو عبادت ہے
مولا کے طرفدارو کس بات میں تم کم ہو
تم نہج بلاغہ کی تفسیر میں ڈھل جاؤ
حیدر کی غلامی کا انداز تو اپناؤ
مظلوم کو مت چھیڑو ظالم سے نہ گھبراؤ
حق بات جو کہنا ہے سولی پہ بھی دہراؤ
اللہ کے نقارو کس بات میں تم کم ہو
مسجد کے مسلمانوں میدان کے بنو غازی
تم حر کی طرح مانگو اک رات میں آزادی
درباروں میں ظالم کے کیوں بنتے ہو فریادی
سجاد نے جس طرح دیوار ستم ڈھا دی
دیوار ستم ڈھا دو کس بات میں تم کم ہو
ہل من کی صدا اب بھی ہم سے ہے یہی کہتی
شبیر کی نصرت کی دل میں جو تمنا تھی
کیا اب بھی ہے وہ باقی جو چاہ تھی مولا کی
آواز وہی دل کی ہر سانس میں ہے اب بھی
دہکے ہوئے انگارو کس بات میں تم کم ہو
پیاسا تھا لب دریا وہ لخت دل زہرا
آنکھوں سے برستا تھا غربت میں لہو جس کا
وہ وقت بھی تھا کیسا چھ ماہ کا اک بچہ
ہاتھوں پہ تڑپتا تھا پانی کا نہ تھا قطرہ
اس وقت کے جاں بارو کس بات میں تم کم ہو
سوچو تو ذرا منظر تم شام غریباں کا
گھر جلتا تھا جب بن میں اس وارث قرآں کا
پامال تھا جب لاشہ اک بے سر و ساماں کا
کردار مگر کیا تھا اس وارث قرآں کا
سمجھو تو سمجھدارو کس بات میں تم کم ہو
ریحان پہ سرور پہ مولا کی عنایت ہے
نوحے کی اذانوں میں ماتم کی اقامت ہے
سچ پوچھو تو دونوں کی ہر سانس عبادت ہے
اے اہل عزاء تم کو ماتم کی جو دعوت ہے
منہ موڑ کے مت جاؤ کس بات میں تم کم ہو
ایماں ہے عزاداری ہے دین کی بیداری
جراری و کراری ہے عزم وفاداری
ہمت نہ اگر ہاری زندہ رہی غداری
مل جائے گی سرداری حیدر کی طرفداری
کر کے تو ذرا دیکھو کس بات میں تم کم ہو
تم راہ صداقت سے ایماں کی حرارت سے
کردار امامت سے افکار رسالت سے
تم شوق شہادت سے مولا کی عنایت سے
اسلام کی خدمت سے معیار محبت سے
تاریخ نئی لکھ دو کس بات میں تم کم ہو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.