Kaise Shabir Ko Seene Se Lagaye Zahra
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Wajeeh Hasan Zaidi
پاس زہرا کے جو اک روز حسین آ پہنچے
ہائے شبیر نے رو رو کے کہا مادر سے
پیار جب ماں نے کیا ہاتھ رکھے پہلو پہ
آج کیوں آپ نے سینے سے لگایا نہ مجھے
پسلیاں ٹوٹ چکیں کیسے بتائے زہرا
کیسے شبیر کو سینے سے لگائے زہرا
اپنی تکلیف کی شدت میں بتا سکتی نہیں
ہاتھ پہلو پہ جو رکھا ہے ہٹا سکتی نہیں
حال شبیر کو کس طرح سنائے زہرا
مجھ کو روتا ہوا دیکھا تو نہ سہہ پائے گا
میرا بیٹا میری حالت پہ تڑپ جائے گا
اشک شبیر سے چھپ چھپ کے بہائے زہرا
رو کے زہرا نے کہا آؤ سنبھالو فضہ
میرے شبیر کو سینے سے لگا لو فضہ
فرض ماں ہونے کا کس طرح نبھائے زہرا
جانب کرب و بلا دیکھ کے رو دیتی ہے
اور روتے ہوئے بیٹے کا گلا چومتی ہے
پانی شبیر کو جب جب بھی پلائے زہرا
ہاتھ اور چہرے پہ ہر ظلم ابھی تک ہے عیاں
تازیانے کے نشاں اور وہ طمانچے کا نشاں
کیسے شبیر کی نظروں سے چھپائے زہرا
اب نہ سینے سے لگایا تو بہت روئے گا
جب تک ماں نہ سلائے گی نہیں سوئے گا
درد تھم جائے تو بیٹے کو سلائے زہرا
ماں نے اک ہاتھ بڑھایا تو کہا بیٹے نے
دوسرا ہاتھ بڑھاؤ تو لگوں سینے سے
ہاتھ اٹھتا نہیں کس طرح بتائے زہرا
کربلا میں وہ عجب لمحہ تھا ذیشان و وجیہہ
جب سر شاہ زمن کٹتا تھا ذیشان و وجیہہ
کیسے شبیر کو خنجر سے بچائے زہرا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.