Nigahon Ko Kar Kar Ke Kham Choomte Hain
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Syed Mudassir Mehdi, Faisal Hamid Sajid, Zawar Ali Hamid
نگاہوں کو کر کر کے خم چومتے ہیں
جو اسم محمد کو ہم چومتے ہیں
محمد کی زلفوں کو عمران مولا
سمجھ کے خدا کی قسم چومتے ہیں
جو اکبر نے نعت محمد سنائی
تو داؤد ان کے قدم چومتے ہیں
میرے ہاتھ جنت بنانے لگے ہیں
کہ بہلول میرا قلم چومتے ہیں
محمد بشر ہیں بشر با کو بھولے
سو شر کر کے رنج و الم چومتے ہیں
ارے ہم تو دل کی نگاہوں سے جالی
جبینوں سے سارے حرم چومتے ہیں
جو جالی کے چھونے کو کہتے ہیں بدعت
وہ تربت سے حاصل رقم چومتے ہیں
فقط نعت لکھا تھا کاغذ پہ میں نے
تو حمد و قصیدہ قلم چومتے ہیں
علی کی بلندی کا ہے راز یہ کہ
حبیب خدا کے قدم چومتے ہیں
محمد کے بیٹے کے زوار ہیں جو
وہ مرنے سے پہلے ارم چومتے ہیں
ہوئے مس میرے ہاتھ نعت نبی سے
بڑے محترم محترم چومتے ہیں
خوشی سے محمد تو بیٹی کی تربت
ذرا کر کے آنکھوں کو نم چومتے ہیں
مدینے سے صادق وفا کربلا ہے
خوشی ڈھونڈتے ہیں کہ غم چومتے ہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.