Aisa Alam Hai Kahan Aisa Jawan Hai Kahan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Nadeem Sarwar
ایسا علم ہے کہاں ایسا جواں ہے کہاں ایسی وفا ہے کہاں ایسا نشاں ہے کہاں
اپنے علم کے سائے میں اس کو شیر خدا نے پالا ہے
آب شجاعت اس کو پلا کر رنگ وفا میں ڈھالا ہے
چار علمداروں میں ہے شامل یہ بھی نصیبوں والا ہے
حمزہ و جعفر کی قوت کا یہ بھی ایک حوالہ ہے
یہ ہے ابوطالب کا گھرانہ اس پہ خدا کا خاص کرم ہے
سارے عرب میں سارے عجم میں کس کو ملا یہ جاہ و حشم ہے
ان میں کوئی یسین و مزمل ان میں کوئی سردار ارم ہے
اس کی الگ ہی شان ہے مولا جس کو ملا حیدر کا علم ہے
اے میرے غازی تیرے علم کے سائے میں سب کچھ ملتا ہے
زیر علم جو مانگیں دعائیں ان کی خدا بھی سنتا ہے
رزق عزاداری کا عطا کر تو بھی علی کا بیٹا ہے
باب حوائج میرے غازی دامن تو بھی بھرتا ہے
کیسا سجا ہے کیسا حسیں ہے کرب و بلا میں شاہ کا لشکر
یوں تو سبھی ہیں شیر دلاور عون و محمد، قاسم و اکبر
ابن مظاہر، وہب کلبی، جون بھی حر بھی سارے دلاور
اپنی جگہ یہ سب ہیں بہادر فوج میں تیری اے شہ صفدر
ام البنین کو گود میں رب نے ایسا گل حساس رکھا
مولا حسین نے یہ شہزادہ لا کے علم کے پاس رکھا
اس کی بہن زینب نے اس کا نام جری عباس رکھا
مولا علی نے مستقبل کا کہہ کر یہ احساس رکھا
شام کے لشکر میں ہل چل تھی کون جری اب آتا ہے
بوڑھے جوانوں سے کہتے تھے یہ تو علی اب آتا ہے
سر پہ خدا ٹھوکر میں قضا ہے قہر جلی اب آتا ہے
کہنا پڑا احمد کو علی سے تیرا وصی اب آتا ہے
ہم تو سگ دربار علی ہیں خاص یہ تجھ سے رشتہ ہے
جد بھی ہے تیرا گل کا مولا تو بھی ہمارا آقا ہے
تیرے فقیروں میں اے غازی عرش نشیں بھی رہتا ہے
سندھ میں آؤ مولا قدم پر لعل قلندر کہتا ہے
بعد نماز فجر زیارت تیرے علم کی کرتا ہوں
شرف غلامی کا مل جائے میں یہ وظیفہ پڑھتا ہوں
کر کے زیارت تیرے علم کی پھر میں گھر سے چلتا ہوں
سائے میں چودہ معصوموں کے شکر خدا میں رہتا ہوں
تیری شہادت سے کعبے پر کیسی قیامت ٹوٹ گئی
جس کو کہا کرتے تھے آقا قتل ہوا وہ بھائی بھی
سر سے چھنی زینب کے چادر تیری سکینہ قید ہوئی
ہائے تیری مجبوری غازی ماں زہرا یہ کہتی رہی
ہم نہیں بھولے اب تک غازی زینب کیسے بھولے گی
مشک و علم کو دوش پہ رکھ کر ہائے تیری رخصت غازی
خالی کوزہ ہاتھ میں تھامے تجھ سے سکینہ لپٹی تھی
گرد علم کے ماتم کر کے ہر شہزادی کہتی تھی
شام ڈھلے ایسا لگتا ہے کوئی لپٹ کے روتا ہے
تم ہی کیا ریحان و سرور سب کی زباں پہ رہتا ہے
اب بھی عزا خانوں میں پرچم تیرا ایسے رہتا ہے
تیرے علم کا سرخ پھریا ہائے سکینہ کہتا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.