Bazaar Mein Laeen Sab Khushiyan Mana Rahe Hain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by John Rizvi
بازار میں لعیں سب خوشیاں منا رہے ہیں
آنکھوں سے خون جگر کا عابد بہا رہے ہیں
نیزوں سے بیبیوں کو ظالم ستا رہے ہیں
آنکھوں سے خون جگر کا عابد بہا رہے ہیں
کرب و بلا سے کوفہ، کوفہ سے شام آئے
اہل حرم ہیں سارے بالوں سے منہ چھپائے
نامحرموں کے مجمعے بڑھتے ہی جا رہے ہیں
آنکھوں سے خون جگر کا عابد بہا رہے ہیں
کوئی نہیں جو پوچھے احوال اس جواں سے
کیا ہو گئی جوانی گزرے کہاں کہاں سے
کیا غم ہیں جو جواں کو بوڑھا بنا رہے ہیں
آنکھوں سے خون جگر کا عابد بہا رہے ہیں
مقتل ہے بیبیوں کا اس میں ہر اک قدم پر
تڑپے نہ کیسے عابد بازار شام آ کر
تڑپا رہے ہیں شامی اتنا ستا رہے ہیں
آنکھوں سے خون جگر کا عابد بہا رہے ہیں
ہر سمت ہے چراغاں ہر موڑ پر ہیں شامی
آل نبی سے ظالم کرتے ہیں بد کلامی
کہیں طعنے مارتے ہیں کہیں مسکرا رہے ہیں
آنکھوں سے خون جگر کا عابد بہا رہے ہیں
کہیں بھیڑ میں جو قیدی گرتے ہیں چلتے چلتے
تو فوج اشقیا کے تیور ہیں یوں بدلتے
ہائے تازیانے ظالم ان کو لگا رہے ہیں
آنکھوں سے خون جگر کا عابد بہا رہے ہیں
ہے کون بنت حیدر پوچھا یزید نے جب
دربار میں قیامت کی آ گئی گھڑی تب
کر کے اشارہ ظالم اس کو بتا رہے ہیں
آنکھوں سے خون جگر کا عابد بہا رہے ہیں
ہاتھوں میں ہتھکڑی ہے کیسے اسے بچائیں
شمر لعیں سے کیسے معصومہ کو چھڑائیں
حسرت سے بس سکینہ کو دیکھے جا رہے ہیں
آنکھوں سے خون جگر کا عابد بہا رہے ہیں
مستوریں رو رہی ہیں بیٹوں کو بھائیوں کو
انعام مل رہے ہیں ان سب کے قاتلوں کو
کس نے کسے ہے مارا قاتل بتا رہے ہیں
آنکھوں سے خون جگر کا عابد بہا رہے ہیں
نوحے کا حق ادا ہو کیا جون اور اسد سے
سنو رونے کی صدائیں سجاد کی لحد سے
بازاروں کے وہ نوحے اب تک سنا رہے ہیں
آنکھوں سے خون جگر کا عابد بہا رہے ہیں
قاتل جہاں کھڑے ہیں نیزوں پہ سر اٹھائے
وہیں بیبیوں کو شامی بازار میں ہیں لائے
بازاری جاتے ہیں نہ نظریں ہٹا رہے ہیں
آنکھوں سے خون جگر کا عابد بہا رہے ہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.