Sakina Kahani Suno
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Nadeem Sarwar
اس کے بابا کو در علم کہا جاتا تھا
ماں نے شہزادی کونین لقب پایا تھا
اس کے بیٹوں میں نظر عکس نبی آتا تھا
بیٹیوں کو گل پاکیزہ کہا جاتا تھا
اس کے اک بھائی کی رگ رگ میں وفا رہتی تھی
اک بہن ساتھ میں سائے کی طرح رہتی تھی
اک شہنشاہ تھا یثرب میں رہا کرتا تھا
اس کا گھر وہ تھا کہ قران جہاں اترا تھا
در پہ جبریل سا دربان رہا کرتا تھا
اس کا انگن بھی ستاروں سے بھرا رہتا تھا
اس کے دروازے سے خالی نہ کوئی جاتا تھا
اسماں اس کی سخاوت کی قسم کھاتا تھا
سیاہ رات میں زنداں کے در پہ رو رو کے
سکینہ کہتی ہے اے بابا یہ شب ستاتی ہے
جدائی آپ کی اس پر یہ خاک کا بستر
کہیں اندھیرے میں بچوں کو نیند آتی ہے
یہ سن کے زینب مظلوم بولی غم نہ کرو
کہانی کہتی ہوں میں اک سنو سکینہ سنو
خیمے جلنے لگے نزدیک ستمگر آئے
اس شہنشاہ کی بچی نے طمانچے کھائے
کان زخمی ہوئے خوں آنکھوں سے ٹپکا ہائے
ڈھونڈنے باپ کو مقتل میں وہ کیسے جائے
جلتے دامن کو لیے گنج شہیداں میں گئی
رسی گردن میں بندھی شام کے زنداں میں گئی
اس کے ایک بیٹے کے سینے میں سناں ٹوٹ گئی
بھائی کے ہاتھ کٹے تیر لگا مشک چھدی
لاش پامال بھتیجے کی بھی مقتل میں ہوئی
بے زباں قتل ہوا اس کا چھری اس پہ چلی
اس شہنشاہ کے کنبے پہ غریبی چھائی
بجھ گئے سارے دیے شام غریباں آئی
ایک دن کیا ہوا وہ گھر سے سفر پر نکلا
اس کا سب کنبہ بھی قران کی حفاظت کو چلا
اشقیا نے اسے پھر دشت بلا میں گھیرا
تین دن تک اسے پانی بھی میسر نہ ہوا
ہوگئی عام ہر اک جور و جفا اس کے لیے
اور پھر جنگ کا میدان سجا اس کے لیے
جس کو سینے پہ شہنشاہ کے نیند آتی تھی
دشت میں ہائے چچا کہہ کے جو چلاتی تھی
جس کے کانوں سے لہو بہتا تھا جو پیاسی تھی
اپنے بابا کی جدائی میں مری جاتی تھی
اس شہنشاہ کی بیٹی وہ سکینہ میں ہوں
جس کا دشوار ہوا قید میں جینا میں ہوں
بولی رو رو کے سکینہ یہ میرا قصہ ہے
اس کہانی کا شہنشاہ میرا بابا ہے
نیزہ جس کے لگا سینے میں میرا بھیا ہے
میرا اصغر ہے لعینوں نے جسے مارا ہے
بے ردا تم ہو پھوپھی جان میری جاتی ہے
یہ کہانی تو میرے گھر کی نظر آتی ہے
پھر سکینہ نے کہا رہتے ہیں وہ لوگ کہاں
بولی زینب کہ ہوئے سب وہ اسیر زنداں
قصہ آخر ہوا نیند آئی نہ تم کو میری جاں
بولی رو رو کے سکینہ پھوپھی اب نیند کہاں
تم تو کہتی تھی کہانی سنو نیند آتی ہے
اس کہانی سے میری نیند اڑی جاتی ہے
تھامے زنجیر نقاہت سے اٹھا اک قیدی
وا حسینا کا بس اک شور بپا ہوتا تھا
وہ جو سنتی تھی کہانی وہ سکینہ نہ رہی
سر شہنشاہ کا گودی میں لہو روتا تھا
ختم جب سرور و ریحان کہانی یہ ہوئی
ایک ننھی سی لحد کانپتے ہاتھوں سے بنی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.