Sath Zainab Ka Fizza Ne Museebat Mein Nibhaya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fizza (s.a)
ساتھ زینب کا فضہ نے مصیبت میں نبھایا
اولاد علی نے بھی باندی نہ کبھی سمجھا ماں کہہ کے بلایا
کربلا ہو یا کہ کوفہ ہو دربار یزیدی ہو
زینب کے کھلے سر پہ چادر کی طرح لوگو فضہ کا تھا سایا
چھین لی سر سے جو زینب کے امت نے ردا آ کے
مغمومہ نے فضہ کی بوسیدہ عبا میں ہی چہرہ تھا چھپایا
تاج اور تخت کو چھوڑ آئی زہرا کی محبت میں
ہر ظلم و ستم جھیلا زہرا کے لٹے گھر پہ کڑا وقت جو آیا
تخت پر بیٹھا شرابی جو مخاطب ہوا زینب سے
تب چیخ اٹھی فضہ ظالم نے جو بی بی کو توں کہہ کے بلایا
کھینچ لیں جوش میں تلواریں اب شاہ کے سپاہیوں نے
حبشہ کی ہوں شہزادی دربار میں جب رو کے فضہ نے بتایا
اس ضعیفی میں ضعیفہ نے جوانی کا سماں باندھا
جلتے ہوئے خیمے سے بیمار علی عابد کو کاندھوں پہ اٹھایا
بولی فروا میں تجھے کیا دوں انعام غریبی میں
فضہ تو نے قاسم کو ان کانپتے ہاتھوں سے سہرا ہے لگایا
خاک نے ڈھانپ لیا اختر بالوں کی سفیدی کو
جب تک یہ رہی زندہ اس خاک سفر کو ہی برقع ہے بنایا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.