Ya ali aap gawahi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Safdar Abbas
دم رخصت تھا یہی نوحہ لب زہرا پر
جو ہوئے مجھ پہ ستم بعد پدر
یا علی آپ گواہی دینا
میرا کس طرح جلایا گیا گھر
یا علی آپ گواہی دینا
میرے پہلو پہ جو دروازہ گرا
مجھکو بچوں نے تڑپتے دیکھا
زخمی پہلو سے لہو بہتا رہا
میرا محسن بھی ہوا مجھ سے جدا
بین کرتے ہیں میرے زخم جگر
یا علی آپ گواہی دینا۔۔۔
اپنی آنکھوں سے قیامت دیکھی
یعنی دربار ستم کی پیشی
اپنا حق لینے کی خاطر میں نے
اس کو دکھلای سند بابا کی
مجھکو جھٹلاتا رہا وہ ہنس کر
یا علی آپ گواہی دینا۔۔۔
تذکرہ کیا ہو نماز شب کا
کس سکی میں نہ رکوع اور سجدہ
زخم پہلو کا چھپا کر تم سے
اٹھ کے راتوں کو میں کرتی تھی بکا
میری غربت پہ بہ روز محشر
یا علی آپ گواہی دینا۔۔۔
جس کو صدیقہ کہاں تھا رب نے
اسکو جھٹلا کے لعیں ہنستے رہے
چار سو کرسی نشاں بیٹھے رہے
میں کھڑی روتی رہی دل تھامے
کیسی بدلی ہے زمانے کی نظر
یا علی آپ گواہی دینا۔۔۔
میرے محسن کی شہادت کا یہ غم
ہے میرے دل کی اذیت پیہم
کیا خطا تھی میرے بچے کی بھلا
قبر تک جاییں گے یہ رنج و الم
تعزیت کو بھی آیا نہ کوئی گھر
یا علی آپ گواہی دینا۔۔۔
ہے فقط ایک وصیت یہ میری
تم مجھے غسل و کفن دینا علی
تم جنازے کو اٹھانا شب میں
میری مرقد بھی نہ دیکھے کوی
کیسے دنیا سے کیا میں نے سفر
یا علی آپ گواہی دینا۔۔۔
ہے غضب صفدر و مظہر یہ بیاں
خون ہے چشمِ قلم سے بھی رواں
قبر زہرا کی تھی چالیس جگہ
سن کے روتے تھے علی بس یہ فغاں
تا دمِ مرگ رہا درد جگر
یا علی آپ گواہی دینا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.