Pur Dard Hai Bohat Hi Asghar Teri Kahani
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Syed Muhammad Taqi Rizvi
پر درد ہے بہت ہی اصغر تیری کہانی
نہ راس آئی تم کو چھ ماہ کی زندگانی
جس وقت العطش کی دیتے تھے تم صدائیں
تشنہ لبی پہ تیری روتی تھیں سب جفائیں
موجیں تڑپ رہی تھیں گریہ کناں تھا پانی
اصغر کی قبر پہ یہ بی بی رباب بولی
بے شیر رہ گئی ہے حسرت میری ادھوری
افسوس دیکھ پائی نہ ماں تیری جوانی
معصوم کے گلے سے کر پار تیر ڈالا
ہاتھوں پہ بابا جاں کے اصغر کو چیر ڈالا
اب لاش بے خطا کی نیزے پہ ہے اٹھانی
چاہے تو آب کوثر یہ فرش پہ بلا لے
زم زم کے آب سے بھی یہ پیاس کو بجھا لے
اصغر نے پھر بھی اپنے رب کی رضا ہے مانی
بھائی کے غم نے اماں ہے میرا چین چھینا
یہ بین کر رہی ہے خیام میں سکینہ
اصغر کے بعد کس کو لوری ہے اب سنانی
شبیر کہہ رہے تھے اب دیر نہ لگاؤ
ام رباب بی بی میری مدد کو آؤ
مقتل میں لاڈلے کی ہائے قبر ہے بنانی
ماں بولی آب کا نہ رن میں سوال کرنا
گر تیر مارے ظالم گردن کو ڈھال کرنا
خود تیر کھا کے رکھنا محفوظ شہ کا جانی
سب پرسہ دار محسن رو رو کے کہہ رہے ہیں
آل عبا کے غم میں جو اشک بہہ رہے ہیں
کر لیں قبول بی بی اشکوں کی یہ روانی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.