Bula Lo Karb O Bala Mujh Ko Ek Bar Hussain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Haider Rizvi
بلا لو کرب و بلا مجھ کو ایک بار حسین
کہ زندگی کا نہیں کوئی اعتبار حسین
میں دور دور سے کب تک کروں گا تم کو سلام
سنا ہے لکھتے ہیں عباس زائرین کے نام
میں کر رہا ہوں بلاوے کا انتظار حسین
کہ زندگی کا نہیں کوئی اعتبار حسین
امام اب تو وطن میں یہ دل نہیں لگتا
کرم کی ایک نظر کر دو میری سمت ذرا
ہے دل تمہاری زیارت کو بے قرار حسین
کہ زندگی کا نہیں کوئی اعتبار حسین
دعا کروں گا اگر کربلا گیا ایک بار
ہو کاش نام مرا ایسے زائروں میں شمار
وہ خوش نصیب جو آتے ہیں بار بار حسین
کہ زندگی کا نہیں کوئی اعتبار حسین
یہ مانتا ہوں گنہگار ہوں بہت مولا
میں جیسا بھی ہوں تمہارا ہوں چاہنے والا
نہیں ہے کم میرے دل میں تمہارا پیار حسین
کہ زندگی کا نہیں کوئی اعتبار حسین
بلا لو ان کو جو روضے پہ آ نہیں سکتے
جو کربلا کی فضاؤں کو پا نہیں سکتے
ہیں جو بھی گردش حالات کا شکار حسین
کہ زندگی کا نہیں کوئی اعتبار حسین
طواف کرتے ہیں جس پاک صحن کا کونین
جو صحن ہے در غازی و شاہ کے مابین
رہوں میں بن کے اسی صحن کا غبار حسین
کہ زندگی کا نہیں کوئی اعتبار حسین
کٹے تھے بازوئے عباس جس جگہ مولا
میں ہو کے چاک گریباں وہاں پڑھوں نوحہ
ہو میرا کرتہ بھی ماتم سے تار تار حسین
کہ زندگی کا نہیں کوئی اعتبار حسین
پڑھوں میں نوحہ گرے تھے جہاں علی اکبر
جھلاؤں ہاتھوں سے گہوارہ علی اصغر
رواں ہو آنکھوں سے اشکوں کا آبشار حسین
کہ زندگی کا نہیں کوئی اعتبار حسین
دعا یہ ہے لب حیدر پہ اے شہ والا
حسن کے دل میں بھی ارمان ہے یہی مولا
ہمارا کرب و بلا میں بنے مزار حسین
کہ زندگی کا نہیں کوئی اعتبار حسین
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.