Ye Kaisi Shaam-e-Wahshat Hai Na Akbar Hai Na Ghazi Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban
یہ کیسی شام وحشت ہے نہ اکبر ہے نہ غازی ہے
عجب غربت ہے پہرے پر محمد کی نواسی ہے
جلے خیموں کی بجھتی راکھ پر ڈٹ کر کھڑی ہے یہ
ہے خود بے حال پر سب کو تسلی دے رہی ہے یہ
نہ گھبراؤ مرے سینے میں جب تک سانس باقی ہے
عجب غربت ہے پہرے پر محمد کی نواسی ہے
گھری ہے بحر طوفاں میں کنارہ بھی نہیں کوئی
اکیلی ہے کہ اب اس کا سہارا بھی نہیں کوئی
لیے ٹوٹا ہوا نیزہ حرم کے گرد پھرتی ہے
عجب غربت ہے پہرے پر محمد کی نواسی ہے
غموں سے چور بی بی کا تھا کتنا حوصلہ دیکھو
بھڑکتے شعلوں سے ایسے اٹھا کر لائیں عابد کو
یوں لگتا تھا کہ یہ زینب نہیں عباس غازی ہے
عجب غربت ہے پہرے پر محمد کی نواسی ہے
بلا ہے دشت غربت ہے اور اس پہ زینب مضطر
چھپاتی ہے کبھی چہرے کو بالوں سے کبھی بڑھ کر
سکینہ بی بی کو گھوڑوں کی ٹاپوں سے بچاتی ہے
عجب غربت ہے پہرے پر محمد کی نواسی ہے
گلابوں کو اجڑ کر ڈالیوں سے چھٹتے دیکھا ہے
یہ گھر زہرا کا اس نے ایک دن میں لٹتے دیکھا ہے
یہ وہ بی بی ہے اک دن میں قیامت جس پہ ٹوٹی ہے
عجب غربت ہے پہرے پر محمد کی نواسی ہے
بچا کر سید سجاد کو بولیں یہ بھائی سے
اٹھو اک بار اے غازی ذرا دیکھو ترائی سے
امامت کی محافظ اب علی کی شاہ زادی ہے
عجب غربت ہے پہرے پر محمد کی نواسی ہے
گئیں پھر ڈھونڈنے مقتل میں رو رو کر سکینہ کو
پکاریں درمیاں لاشوں کے اے بی بی کہاں پر ہو
صدا دو مجھ کو شہزادی پھوپھی تم کو بلاتی ہے
عجب غربت ہے پہرے پر محمد کی نواسی ہے
عجب منظر تھا جب بچوں کو یکجا کر کے شہزادی
لگیں گننے تو اس لمحہ قیامت اور اک ٹوٹی
سبھی ہیں پاس پر زینب سکینہ کو نہ پاتی ہے
عجب غربت ہے پہرے پر محمد کی نواسی ہے
بیاں ہو کس طرح احمد قیامت کے وہ لمحے تھے
ستمگر گھیر کر زینب کو ہنس ہنس کر یہ کہتے تھے
بڑھو آگے سبھی مل کر اسے مارو یہ باغی ہے
عجب غربت ہے پہرے پر محمد کی نواسی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.