Baba Teri Zehra Ko Ummat Ne Bara Tarpaya Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Fatima Ladak
بابا تیری زہرا کو امت نے بڑا تڑپایا ہے
تیرے بعد مدینے والوں نے دربار مجھے بلوایا ہے
اس طرح ہوئی تعظیم میری مسجد میں کوئی اٹھا ہی نہیں
تیری سچی بیٹی کو بابا تیرے نوکروں نے جھٹلایا ہے
آیات بھی سن کر ہنستے رہے معصوم گواہی رد کر دی
تحریر تیری کو چاک کیا خالی مجھ کو لوٹایا ہے
حیدر کو نہیں معلوم ابھی جو حال ہے میرے پہلو کا
ہر لمحہ جیتی مرتی ہوں اب سر پہ قضا کا سایہ ہے
ہے میری دعا پوچھے نہ کہیں مجھ سے روداد طمانچے کی
کلثوم اور زینب سے میں نے چہرے کا نیل چھپایا ہے
دروں کی اذیت سہہ سہہ کے ٹوٹی ہیں پسلیاں زہرا کی
بابا میرا محسن قتل ہوا یوں اجر رسالت پایا ہے
بالوں کی سفیدی نے اس کو سب حال سنایا پیشی کا
دربار کا منظر زینب کو زہرا نے کہاں بتلایا ہے
بابا جس لاڈلی بیٹی کو تم ام ابیہا کہتے تھے
امت نے کبھی مارے درے کبھی اس پہ ہاتھ اٹھایا ہے
کہتے ہیں لوگ مدینے کے میں رات میں روؤں یا دن میں
اک وقت میں سوگ منانے کا امت نے حکم سنایا ہے
محسن یہ کہتی تھی زہرا یہ درد نہ مجھ کو بھولے گا
بیٹوں کے سامنے ظالم نے زہرا پہ ہاتھ اٹھایا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.